اصحاب احمد (جلد 6) — Page 128
128 افراد کے اسماء پر مشتمل درج ہے۔یہ دوست قادیان و نواح سے حضور کے رفیق سفر ہوئے تھے۔ان میں حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کا نام بھی درج ہے۔(۸) ''طاعون کے ایام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک الہامی نسخہ جس کا نام تریاق الہی رکھا گیا تھا۔اور قیمتی اجزاء کستوری۔مروارید اور جدوار وغیرہ حضور نے اس میں ڈالے اور خود گھر میں تیار کیا۔اور بہت بڑی مقدار میں بنایا اور اپنے خدام میں تقسیم کیا۔اور جہاں تک مجھے یاد ہے میری اہلیہ لینے کیلئے حضور علیہ السلام کے پاس حاضر ہوئیں تو حضور نے پورا ہاتھ کھول کر جس قدر ہاتھ میں آیا بھر کر عطا کر دیا۔جس کا کچھ حصہ اب تک ہمارے پاس محفوظ ہے۔حضور علیہ السلام اسی طرح جس کو دیتے تھے دل کھول کر دیتے تھے۔“ خاکسار مؤلف اصحاب احمد عرض کرتا ہے کہ ۱۸۹۶ء میں طاعون ہندوستان میں آئی تھی۔بظاہر انسدادی تدابیر سے رُک گئی تھی کہ 4 فروری ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار کے ذریعہ حضرت اقدس نے اعلان کیا کہ میں نے خواب میں فرشتوں کو پنجاب کے مختلف مقامات میں بد شکل اور سیاہ پودے لگاتے دیکھا ہے اور فرشتوں نے بتایا کہ یہ طاعون کے پودے ہیں۔حضور نے یہ بھی تحریر کیا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ایام طاعون میں بستی سے باہر نکلنا حرام ہے۔البتہ وبا والے شہر سے دوسرے شہر میں جانا شرعاً منع ہے۔لیکن کھلے میدان میں رہائش اختیار کرنا ہی عقلاً بھی مناسب ہے۔جیسا کہ حکومت کہتی ہے۔(80) اس پر لوگوں نے حضرت اقدس پر استہزا کیا۔لیکن تھوڑے ہی عرصہ بعد طاعون پنجاب میں اس شد ومدّ سے پھیلی کہ خدا کی پناہ! دوسری طرف دیہات کے جاہل لوگ حکومت کی انسدادی تدابیر کو جو محض خیر خواہی پر مبنی تھیں۔سخت مشکوک سمجھتے تھے۔چنانچہ بلوے ہوئے ضلع سیالکوٹ میں ایک نائب تحصیلدار قتل ہو گیا۔اس پر حکومت نے دست اعانت کھینچ لیا۔اور یہ ہدایت دی کہ جو لوگ امداد حاصل کرنا چاہیں۔صرف انہی کو طبی امداد دی جائے۔ان حالات میں حضور نے از راہ ہمدردی و شفقت ۲۲ اپریل ۱۸۹۸ء کے اشتہار کے ذریعہ حکومت سے استدعا کی کہ لوگوں کی جہالت سے ناراض ہو کر وہ اپنی مدد نہ روک لے بلکہ انسدادی تدابیر جاری رکھے اور عید الاضحی کے موقعہ پر احباب کو جمع ہونے کی تاکید کی جس میں حضور نے حکومت کی انسدادی تدابیر کے فوائد اور شرعی اور طبی نقطہ ہائے نگاہ بیان فرمائے۔علاوہ ازیں ۲۳ جولائی ۱۸۹۸ء کو ایک اشتہار دیگر احباب سے اڑھائی ہزار روپیہ جمع کر کے قیمتی اجزاء سے مرکب ایک دوا جس کا نام آپ نے تریاق الہی رکھا۔تیار کی۔(81) یہ دوائی مفت تقسیم کی