اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 127 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 127

127 پاک ہو تو نماز ہو جاتی ہے۔یعنی اگر چٹائی یا دری وغیرہ پاک نہ ہو یا مشتبہہ ہوگئی ہو تو کوئی ایسا پاک کپڑا ڈال کر نماز ہو جاتی ہے جو صرف سجدہ والی جگہ کو ڈھانپ سکے۔” میں نے اس وقت اس فتویٰ کی حکمت پر غور کیا تھا۔اور مجھے یہ سمجھ آیا تھا کہ حضرت صاحب نے یہ استنباط بعض وقت جوتی سمیت نماز پڑھ لینے کے جواز سے فرمایا ہوگا۔(۶) ” جب مولوی ثناء اللہ صاحب مع اپنے شاگردوں کے قادیان آئے تو لالہ بڑھامل کے مکان پر ٹھہرے۔ظہر کے وقت ان کے چند شاگرد اور ان کا لڑکا مسجد مبارک میں آئے اور نماز ظہر ہمارے ساتھ پڑھی۔نماز کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے ایک تقریر فرمائی۔جس میں بتایا کہ مولوی شاء اللہ کوتحقیق حق کیلئے آنے کیلئے میں نے لکھا تھا۔لیکن اب وہ اسلام کے ایک دشمن کے پاس آ کر ٹھہرے ہیں۔اگر تحقیق حق مقصود ہوتا تو میرے پاس آتے۔پس ان کا آنا صرف الزام دینے کیلئے ہے۔ورنہ وہ اس طرح نہیں آئے۔جیسا کہ میں نے ان کو بلایا تھا۔اور اس لئے ہماری یہ بات بدستور قائم ہے کہ وہ تحقیق حق کیلئے نہیں آئیں گے۔(۷) جب کرم دین کا مقدمہ جہلم میں تھا۔تو میرے والد صاحب نے حضور علیہ السلام کے ہمراہ جہلم جانے کی اجازت مانگی۔حضور علیہ السلام نے اجازت دی۔اور چونکہ سردی کے دن تھے۔حضور علیہ السلام نے از خود ہی والد صاحب مرحوم کیلئے اپنا ایک گرم کوٹ اور ایک گرم پائجامہ ہمارے گھر بھجوا دیا۔میرے والد صاحب دیہاتی دستور کے مطابق پائجامہ نہیں پہنا کرتے تھے۔تہہ بند ر کھتے تھے۔لیکن حضور علیہ السلام کا وہ عطیہ پاجامہ انہوں نے پہنا۔اور کوٹ بھی پہنتے رہے۔اس کے بعد وہ کوٹ میں پہنتا رہا۔اور کبھی کبھی میرے چھوٹے بھائی (قاضی محمد عبد اللہ صاحب۔ناقل ) نے بھی پہنا ہے۔لیکن زیادہ اسے میں نے ہی استعمال کیا ہے۔اور جو گرم پائجامہ تھا۔اس میں سے اپنے دو بچوں بشیر احمد اور عبدالسلام کیلئے پاجامے قطع کر کے بنوا دیئے جو یہ پہنتے رہے۔یہ نہایت عمدہ کپڑا تھا اور بہت قیمتی تھا۔یہ عجیب بات تھی کہ آخر تک اُسے کیڑا نہ لگا تھا۔چار پانچ سال کے استعمال کے بعد یہ کپڑا پھٹا تھا۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ البدر مورخہ ۲۳/۳۰ جنوری ۱۹۰۳ء میں ایک نامکمل فہرست انتالیس