اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 11 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 11

11 بعد میں حضور نے ایک مکتوب میں آپ کو تحریر کیا تھا کہ ابتلاء مستقیم الاحوال بندوں کی استقامت ظاہر کرنے اور صبر کرنے والوں کو بڑے بڑے اجر بخشنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت قاضی صاحب کو اس شدیدا ابتلاء میں استقامت عطا فرمائی اور یہ ابتلاءاصطفاء کا موجب ہی بنا۔حضرت اقدس تریاق القلوب میں ۷۴ ویں نشان کے طور پر تحریر فرماتے ہیں: منجمله ان نشانوں کے جو پیشگوئی کے طور پر ظہور میں آئے۔وہ پیشگوئی ہے جو میں نے اخویم قاضی ضیاء الدین صاحب قاضی کوئی ضلع گوجرانوالہ کے متعلق کی تھی۔اور میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس جگہ خود ان کے خط کی عبارت نقل کردوں۔جو اس پیشگوئی کے بارے میں انہوں نے میری طرف بھیجا ہے اور وہ یہ ہے۔مجھے یقینی یاد ہے کہ حضور علیہ السلام نے بماہ مارچ ۱۸۸۸ء * جب کہ اس عاجز نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی تھی تو ایک لمبی دعا کے بعد اسی وقت آپ نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلاء پیش آنے والا ہے۔چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد اس عاجز نے کئی اپنے عزیز دوستوں کو اس سے اطلاع بھی دیدی کہ حضور نے میری نسبت اور میرے حق میں ایک ابتلائی حالت کی خبر دی تھی۔اب اس کے بعد جس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوئی وہ وقوعہ بعینہ عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت اقدس سے روانہ ہو کر بھی راستہ میں ہی تھا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اہلیہ بعارضہ درد گردہ و قولنج و قے مفرط سخت بیمار ہے۔جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقعی میں ایک نازک حالت طاری تھی اور عجیب تر یہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی جس کی شام کو حضور نے اس ابتلاء سے اطلاع دی تھی۔شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر دم ڈوبتی جاتی تھی۔اور بے تابی ایسی تھی کہ باوجود کثیر الحیاء ہونے کے مارے درد کے بے اختیار ان کی چیخیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی اور ایسی نازک اور درد بقیه حاشیه : معلوم ہوتا ہے کہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ایڈیٹر نے یہ دونوں باتیں قاضی صاحب کی تقریر ہی سے اخذ کی ہیں۔روز نامچہ سے ظاہر ہے وہ بٹالہ سے لدھیانہ چلے گئے تھے۔معلوم ہوتا ہے کہ تقر بر قلم بند کرنے والے نے قاضی صاحب سے نظر ثانی نہیں کروائی۔اس لئے اس بارہ میں سہو ہو گیا۔ورنہ قاضی صاحب کے بیان کا ماخذ روز نامچہ ہی سے ہوسکتا ہے جو یقینی اور تحریری ماخذ ہے۔(مؤلف) * ۱۸۸۸ء میں سہو کا تب معلوم ہوتا ہے آغا ز بیعت کا سال ۱۸۸۹ء ہے۔(مؤلف)