اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 10 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 10

10 بیعت : سے متمتع ہوسکیں۔آپ نے مجھ سے کہا کہ ایک روز جب میں حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر تھا میں نے عرض کی کہ اے میرے آقا! میں اپنے دل میں متضاد خیالات موجزن پاتا ہوں۔ایک طرف تو میں بہت اخلاص سے اس امر کا خواہاں ہوں کہ حضور کی صداقت اور روحانی انوار سے بیرونی دنیا جلد واقف ہو جائے اور تمام اقوام وعقائد کے لوگ آئیں اور اس سر چشمہ سے سیراب ہوں۔جو اللہ تعالیٰ نے یہاں جاری کیا ہے۔لیکن دوسری طرف اس خواہش کے عین ساتھ ہی اس خیال سے میرا دل اند و بگین ہو جاتا ہے کہ جب دوسرے لوگ بھی حضور سے واقف ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں یہاں آنے لگیں گے۔تو اس وقت مجھے آپ کی صحبت اور قرب جس طرح میسر ہے۔اس سے لطف اندوز ہونے کی مسرت سے محروم ہو جاؤں گا۔ایسی صورت میں حضور دوسروں میں گھر جائیں گے۔حضور والا ! مجھے اپنے پیارے آقا کی صحبت میں بیٹھنے اور ان سے گفتگو کرنے کا جو مسرت بخش شرف حاصل ہے۔اس سے مجھے محرومی ہو جائے گی۔ایسی متضاد خواہشات یکے بعد دیگرے میرے دل میں رونما ہوتی ہیں۔قاضی صاحب نے مزید کہا کہ حضرت مسیح موعود میری بات سُن کر مسکرا دئیے۔“ حضرت مولوی شیر علی صاحب کہتے ہیں کہ اس قدیمی اور بزرگ مُرید کے خطرات جلد متحقق ہونے شروع ہو گئے یعنی حضور کی مخالفت کے باوجود کثرت سے لوگ حضور کے پاس آنے لگے (2) بیعت کا آغاز ۲۳ مارچ ۱۸۸۹ء میں ہوا قاضی صاحب کی یہ خوش بختی تھی کہ آپ تیسری بار حضرت اقدس کی زیارت کے لئے کے چیت سمہ ۱۹۴۵ بکر می کو قادیان کے لئے روانہ ہوئے چنانچہ آپ لکھتے ہیں کہ بٹالہ سے خبر ملی کہ حضرت صاحب لدھیانہ ہیں۔پس وہاں سے واپس لدھیانہ جا کر بیعت سے مشرف ہوا۔ایک علیحدہ کوٹھڑی میں ایک ایک کو بلا کر بیعت لیتے۔شائد عاجز کا نمبر ۴۰ ( چالیس ہے ناقل ) بعد تو بہ ارشاد فرمایا کہ آپ کو بہت ابتلاء پیش آئیں گے۔سوالیسا ہی وقوع میں آیا۔“ (روزنامچہ) * * قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی زبانی بیان کردہ روایات درج کرتے ہوئے الحکم مورخہ 36-2-14 کی تمہید میں یہ ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب قادیان سے ہوکر لدھیانہ گئے تھے اور بیعت کا نمبر چالیسواں تھا ( باقی اگلے صفحہ پر )