اصحاب احمد (جلد 6) — Page 118
118 چھٹی جماعت میں داخل ہوئے قاضی صاحب نے صحبت کا لمبا عرصہ پایا۔چونکہ وہ زمانہ طالب علمی کا تھا۔اس لئے زیادہ روایات یاد نہ رکھ سکے۔تاہم بہت کچھ اس زمانہ کے متعلق آپ کے ذہن میں نقشہ موجود ہے۔(76) (1) ۱۰ / اپریل ۱۹۰۰ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خطبہ الہامیہ مسجد اقصیٰ کے درمیانی در میں کھڑے ہو کر دیا تھا۔اور حضور کے دونوں طرف حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بیٹھے ہوئے لکھتے جاتے تھے۔آخر میں حضور نے سجدہ شکر کیا تھا اور جماعت بھی اس سجدہ میں شامل ہوئی تھی۔الحمد للہ کہ خاکسارک بھی خطبہ الہامیہ سنے اور سجدہ شکر میں شامل ہونے کا موقعہ ملا تھا۔* (۲) مارچ ۱۹۰۰ء میں جب میں قادیان آیا اسی سال ۲۰ جون کو میری بڑی ہمشیرہ آمنہ بیگم زوجه قاضی نظیر حسین صاحب فوت ہو گئیں۔*۔والد صاحب نے میرے خط میں حضرت مسیح موعود کے نام بھی ایک خط ارسال کیا تھا۔میں نے وہ لے جا کر حضور کی خدمت میں پیش کیا تو حضور نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری کتنی بہنیں ہیں۔میں نے عرض کیا کہ تین۔پھر فرمایا کہ کہاں کہاں بیاہی ہوئی ہیں۔میں نے تفصیل عرض کی۔فرمایا اچھا اب دو بہنیں ہیں۔پھر فرمایا سب نے مرنا ہے۔اچھا میں قاضی صاحب کو خط لکھوں گا۔اس طرح سے حضور نے میرے ساتھ بھی تعزیت فرمائی۔اور والد صاحب سے بھی۔”میری ہمشیرہ امتہ الرحمن حضرت مسیح موعود کے دار میں حضرت ام المومنین کی خدمت میں رہتی تھیں۔میں کبھی کبھی ہمشیرہ صاحبہ کی ملاقات کیلئے جاتا تھا۔سیڑھیوں کے پاس ہی اندر جانے کا راستہ تھا۔میں وہاں دروازے پر کھڑا ہوکر آواز دیتا۔بہن جی ! کبھی وہ سُن کر آجاتیں اور کبھی کوئی اور جواب دیتا۔کبھی ایسا ہوتا کہ کوئی وہاں نہ ہوتا تو کوئی جواب نہ دیتا۔حضرت اقدس جو برآمدے میں ٹہل رہے ہوتے یہ معلوم کر کے کہ کوئی نہیں سنتا۔تشریف لے آتے اور حضور خود میری بہن کو بلاتے اور فرماتے امتہ الرحمن تمہارے بھائی آئے ہیں۔باوجود اس کے میں بچہ تھا حضور تو کا لفظ نہیں استعمال فرماتے تھے۔(۴) " جن ایام میں مسجد مبارک کے نیچے گول کمرے کے غربی جانب مخالفین نے دیوار قاضی صاحب کا بیان ہے قاضی نظیر حسین صاحب مرحوم صحابی نہیں تھے۔بعد میں احمدی ہو گئے تھے۔