اصحاب احمد (جلد 6) — Page 105
105 ہونے میں وقتیں تھیں۔اس لئے میں کولمبو کی راہ سے گیا۔اگر چہ جرمنوں نے اس وقت یہ اعلان تو نہیں کیا تھا کہ ہمیں جو جہاز ملے گا۔اس کو ضرور غرق کر دیں گے۔مگر ان کی سب میر نیز Submarines پھیلی ہوئی تھیں۔اس لئے جہاز راستہ میں چکر کھا تا ہوا جاتا تھا۔رات کو تمام روشنیاں گل کر دی جاتی تھیں کہ کہیں دشمن اچانک حملہ نہ کر دے اور ہر شخص کے پاس ایک ایک لائف بیلٹ ہوتا تھا۔جو سوتے وقت بھی پاس ہی رہتا تھا۔جہاز غالباً دو ہفتہ کی مسافت کے بعد مارسیلز میں پہنچا اور وہاں جنگی قانون سے پالا پڑا۔ان دنوں چونکہ جناب چوہدری فتح محمد صاحب کی آنکھیں دکھتی تھیں۔اس لئے وہ لندن سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ایک جگہ رہتے تھے۔مجھے بھی وہاں رہنا پڑا۔ہمارا قیام ایک گھر میں تھا۔اس وقت ہماری تبلیغ بالکل پرائیویٹ حیثیت کی تھی۔وہاں جانے کے چار مہینہ بعد برائٹن میں میرا ایک لیکچر ہوا اور محض خدا کے فضل سے نہایت کامیاب ہوا۔کچھ دنوں کے بعد چوہدری صاحب تو واپس آگئے اور میں اکیلا رہ گیا۔میں نے مکان تبدیل کر لیا۔لیکن جس مکان میں میں گیا۔اس کی لینڈ لیڈی سخت متعصب نکلی اور وہاں رہنے سے مجھے یہ نقصان ہوا کہ جو کوئی ملنے کیلئے آتا اُسے کہتی کہ یہ انٹی کرائسٹ (رجال) ہے اس کے بعد میں نے مناسب خیال کیا کہ لنڈن کو اپنا ہیڈ کوارٹر بناؤں۔چنانچہ اب میں نے برٹش میوزم کے پاس رسل سٹریٹ میں ایک مکان لیا۔وہیں مسٹر کور یو بھی رہتے تھے۔جو چوہدری صاحب کے ذریعہ مسلمان ہوئے تھے۔وہ ایک قابل شخص ہیں۔ان کا کام یہ ہے کہ انگریزی اخباروں کے تراجم اٹلی میں پہنچاتے ہیں اور اٹلی کے اخباروں کے تراجم انگریزی اخباروں میں دیتے ہیں۔ان سے مل کر کام شروع کیا۔اس طرح میں نے اس جگہ ایک مرکز قائم کر لیا اور مکان پر موٹا لکھ کر لگا دیا گیا۔احمد یہ موومنٹ اس کو دیکھ کر بہت لوگ آتے تھے۔بعض اخبارات کے قائم مقام بھی آتے تھے۔بعض تو وہی باتیں شائع کرتے جو ہم انہیں بتاتے اور بعض ہنسی بھی کرتے۔لیکن ان کی ہنسی بھی ہمارے لئے مفید ہوتی تھی۔اس وقت میرا کام یہ تھا کہ خط و کتابت کے ذریعہ تبلیغ کرتا تھا اور جو لوگ پہلے مسلمان ہو چکے تھے۔ان کی تعلیم وتربیت کرتا تھا۔وہاں ایک بڑا ذریعہ مشنری کے اشتہار کا یہ ہے کہ وہاں کا پورالباس اختیار نہ کرے۔بلکہ