اصحاب احمد (جلد 6) — Page 104
104 مقرر بھی کیا۔اور قاضی صاحب عرب صاحب کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے خواجہ صاحب روپوش ہو گئے۔قاضی صاحب نے اس عرصہ میں کئی لیکچر دیئے۔بعض لوگوں کے ساتھ مباحثات کئے۔سائلین کے خطوط کے جواب لکھے۔اور مکان پر آنے والوں کو تبلیغ کی۔اور مناسب خاطر داری کی۔اپنا مکان ہونے سے مہمان نوازی کا ایک اور خرچ بڑھ گیا ہے۔یہاں کے دستور کے مطابق جب کوئی ملاقات کے واسطے آوے۔اور کھانے کا وقت ہو۔تو ضروری ہوتا ہے کہ اسے کھانے میں شامل کیا جائے۔۔۔۔۔۔اور کھانے کے اوقات یہاں دن میں کم از کم چار ہیں۔باوجود اکیلا ہونے کے قاضی صاحب نے ان تمام کاموں کو پورا کیا اور پھر بڑی کفایت شعاری سے جس کے وہ خاص مشاق ہیں۔اللہ تعالیٰ ہی ان کا اجر ہو۔اور ان کی جوانی۔عمر۔نیکی اور صحت میں برکات نازل کرے۔آمین۔‘ (61) قاضی صاحب نے ۳۰ / نومبر 1919ء کومسجد اقصیٰ میں لنڈن مشن کے ذیل کے حالات سنائے۔” میرے احباب جانتے ہیں کہ میں یہاں ایک خاموش زندگی بسر کرتا تھا اور میرے لئے لیکچر دینے کا کبھی موقع پیش نہ آیا تھا۔مگر یہ خدا کا فضل ہے کہ میرے ولایت میں بھیجنے کا خیال حضرت خلیفہ ثانی ایدہ اللہ کے دل میں پیدا ہوا۔جب آپ نے مجھے اس کام پر لگانے کی اطلاع دی تو میں بہت حیران ہوا۔اور ڈرا کہ مجھ سانا کارہ اور نالائق انسان وہاں جا کر کیا کریگا۔اس پر میں نے خدا کے حضور نہایت الحاج سے دعا کرنی شروع کر دی کہ مولا تو جانتا ہے کہ میں نالائق ہوں اور کوئی قابلیت اپنے اندر نہیں رکھتا تو ہی مدد فرما۔میں نے بہت دعا کی تو مجھے القاء ہوا اِنْ يَنصُرُ كُمُ اللهُ فَلا غَالِبَ لَكُمُ۔۔۔۔۔چنانچہ میں نے اس بشارت کا یہ نتیجہ دیکھا کہ اس ملک میں جا کر مسیحیوں کے بڑے بڑے آدمیوں سے بخشیں ہوئیں اور ان کے بشپوں کو دعوت دی گئی کہ وہ اپنے اصول مذہبی کی صداقت کا ثبوت دیں۔لیکن خدا کے فضل سے کوئی سامنے نہ آسکا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جب کسی سے کوئی کام لینا چاہتا ہے تو خواہ وہ کتنا ہی نالائق کیوں نہ ہو۔اس کو اتنی لیاقت دے دیتا ہے کہ دنیا کی لیاقتیں اس کے آگے پیچ ہو جاتی ہیں۔پس میں نے جو کچھ کام کیا ہے۔اس کے لئے وہی خدا مستحق حمد ہے۔جو نالائقوں سے کام لیتا ہے۔وو۔۔۔میں اواخر ۱۹۱۵ء میں یہاں سے روانہ ہوا۔وہ زمانہ جنگ کا تھا۔بمبئی سے سوار