اصحاب احمد (جلد 5) — Page 62
۶۲ رخصتانہ اور بے سروسامانی سچ ہے کہ غناء غنا نفس کا نام ہے ورنہ ہزاروں دولتمند باوجود ہر قسم کی دولت سے مالا مال ہونے کے غرباء سے کہیں بدتر ہوتے ہیں۔آپ نے نکاح کے موقع پر میاں غلام رسول صاحب حجام کے ذریعہ سے دریافت کیا کہ رخصتانہ کے موقع پر کیا کچھ لانا چاہئے۔بابا جی نے کہلا بھیجا کہ ہم سب کچھ دیں گے اور آپ کچھ بھی ساتھ نہ لا ئیں اور پندرہ روز سے زیادہ تاخیر نہیں کریں گے۔رخصتانہ کے لئے مولوی صاحب کے پاس ایک پیسہ بھی نہیں تھا۔حضرت حکیم فضل الدین صاحب مہمان خانہ کے اوپر کے چوبارہ میں رہائش رکھتے تھے۔نیچے آئے اور مولوی صاحب کو دیکھ کر کہا کہ معلوم ہوتا ہے آپ رخصتانہ کے لئے جا رہے ہیں اور دس روپے دیئے۔حضرت مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ سے آپ ملے تو فرمایا کہ برات میں کسی کو ساتھ نہ لے جائیں۔آج تیرہ دوست مجھ سے مل کر امر تسر گئے ہیں اور میں نے انہیں کہا ہے کہ امرتسر اسٹیشن پر ٹھہریں اور آپ کی برات میں شامل ہوں۔چنانچہ یہ لوگ اسٹیشن پر موجود تھے۔ان کے ہمراہ آپ ڈاکٹر عباداللہ صاحب کے مکان پر گئے اور چند اور دوست بھی شامل ہو گئے اور یہ برات بابا جی کے ہاں پہنچی۔بابا جی پشمینہ بانی کا کام کرتے تھے ہیں مولوی صاحب کو ان سے سابقہ معرفت نہ تھی۔یہ حضور علیہ السلام کا اثر برکت اور تاثیر فیض تھی کہ جس کی وجہ سے آپ نے سابقہ خاندانی روایات کے خلاف اس انکشاف کو صبر سے برداشت کیا۔ورنہ عام حالات میں ممکن تھا کہ سرال سے واپس اُٹھ آتے۔سچ ہے انبیاء کے ذریعہ ایک انقلاب بر پا ہوتا ہے جو روایات اور رواج و رسوم کی خس و خاشاک کو اپنے ساتھ بہا لے جاتا ہے۔آپ کی بعد کی ازدواجی زندگی میں اپنے اہل بیت سے حسن معاشرت اس امر پر دال ہے۔نرینہ اولا د ہونا ایک دفعہ حضرت خلیفتہ المسیح اول کی مجلس میں جموں کے تعلق میں اولاد کے سلسلہ کا ذکر چل پڑا۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب کے خاندان سے حضور کو سابقہ تعارف تھا۔آپ نے عرض کیا کہ آپ والد صاحب بابا جی بہت مخلص ، سادگی پسند ، بریکار نہ رہنے والے، تبلیغ پیشہ، کفایت شعار اور تقوی شعار تھے۔باوجود غریب ہونے کے اہل محلہ میں ان کی نیکی کی وجہ سے بہت اثر تھا۔خاکسارا اپنے زمانہ طالب علمی میں اپنی ممانی صاحبہ کے ہاں کو چہ کلکتیاں میں جایا کرتا تھا اور بابا جی سے ملاقات کرتا۔آپ بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں۔مؤلف