اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 58 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 58

۵۸ بیوی فوت ہو چکی ہے اور اب راجہ عطا محمد خان سکنہ یاڑی پورہ (کشمیر) کے ہاں رشتہ کرنا چاہتا ہوں وہ انکار کرتے ہیں۔مولوی سرور شاہ صاحب کی بات وہ مان لیں گے۔اس لئے کہ آپ ان کے خالہ زاد بھائی ہیں ( راجہ صاحب کی والدہ بڑی تھیں اور مولوی صاحب کی والدہ چھوٹی تھیں ) اس لئے حضور مولوی صاحب کو دوماہ کی رخصت عنایت کریں۔چنانچہ حضور کی طرف سے دوماہ کی اجازت ملی اور ترک افیون کے چالیسویں دن آپ نے دانہ کا سفر اختیار کیا اور سید صاحب اور محمد یا مین صاحب (صحابی ) کے ہمراہ حضرت مولوی صاحب سرینگر پہنچے۔راجہ صاحب وہاں اپنے بڑے لڑکے کو لے کر آئے ہوئے تھے۔یہ لڑکا ہیضہ سے بیمار تھا۔راجہ صاحب نے کہا کہ دوسروں کا تو میں علاج کرتا ہوں لیکن اپنے لڑکے کے علاج کے لئے عقل ٹھکانے نہیں۔آپ علاج کریں۔مولوی صاحب کو یاد تھا کہ آپ کے والد صاحب نے ہیضہ ہونے پر آپ کو جنگلی پودینہ میں بقدر ضرورت نمک لاہوری ( یعنی اس کا چمکدار حصہ ) ڈال کر پیس کر گائے کی تازہ کسی کے ساتھ کھلایا تھا۔دو خوراک سے آرام آجاتا ہے۔چنانچہ اس نسخہ سے لڑکے کو آرام آ گیا۔بعد ازاں راجہ صاحب کے ساتھ ان کے گاؤں یاڑی پورہ گئے اور سید صاحب کی ان کے ہاں شادی ہوگئی۔راجہ صاحب اپنے طریق کے مطابق سید صاحب کو لمبے عرصہ کے لئے وہاں ٹھیر انا چاہتے تھے لیکن مولوی صاحب کچھ دن بعد وہاں کے قیام سے تنگ پڑ گئے اس لئے آپ لدرون چلے گئے وہاں آپ کے والد صاحب اور بھائی تھے۔وہاں سے آپ گھنڈی آگئے۔وہاں کے ساہوکار نے جس سے ہمیشہ لین دین ہوتا رہتا تھا۔اس بغض کی وجہ سے کہ آپ احمدی ہو گئے ہیں آپ کو روپیہ دینے سے انکار کر دیا۔پھر بھی حضرت مولوی صاحب نے ارادہ کر لیا کہ آپ راولپنڈی چلے با ئیں گے تاکہ وہاں غیر معروف ہونے کی وجہ سے محنت مزدوری کرسکیں اور اخراجات مہیا ہونے پر قادیان پہنچیں گے۔چنانچہ گھنڈی میں جو او پر مکان ہے اس سے آپ اسی ارادہ سے روانہ ہوئے لیکن آپ جب نچلے مکان تک پہنچے تو وہاں آپ کے کاردار منگا نام نے کہا کہ فلاں شخص بہت اصرار کرتا ہے کہ دس روپے کا غلہ اسے دے دیا جائے۔آپ کے گھر میں یہ طریق تھا کہ غلہ فروخت نہیں کرتے تھے بلکہ تمام کا تمام رکھتے تھے۔اب یہ الہی سامان تھا کہ آپ کا اپنا غلہ اصرار سے مانگا جارہا تھا۔چنانچہ آپ نے اسے کہا کہ اس شخص کے پاس غلہ فروخت کر دو۔اس طرح دس روپے آپ کومل گئے۔اتنے میں میاں بگا نے سید فتح علی شاہ صاحب کی طرف سے تمہیں روپے آپ کو دئیے۔والد صاحب کی پہلی شادی اپنے ماموں کے ہاں ہوئی تھی۔والد صاحب کے ماموں زاد بھائی اور برادر نسبتی سید احمد علی شاہ سکنہ پچھواڑ کے دو بیٹوں میں سے ایک سید فتح علی شاہ مذکور تھے۔انہیں ایک ہندو بابو