اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 54 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 54

۵۴ فجے کے ساتھ آپ گئے۔اس نے حضور کو اطلاع دی تو حضور نے اسے کہا کہ اندر بلا لاؤ۔چنانچہ اس دن پہلی بار آپ دار ا مسیح کے اندر بڑے دالان میں گئے۔حضور مہندی لگوانے کے لئے معمولی کپڑے بدل کر ایک گر نہ میں ننگے سر اس دالان میں کھڑے تھے۔مولوی صاحب نے السلام علیکم کہا۔حضور ایک چارپائی پر بیٹھ گئے اور پاس ہی آپ کو بھی بٹھا لیا اور فرمایا کہ میں نے آپ کو اس لئے بلایا ہے کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ جوان ، اچھا، تندرست آدمی ہوتا ہے اور اس کے مرنے کا خیال تک بھی نہیں ہوتا اور پھر یکدم سُنتے ہیں کہ وہ فوت ہو گیا۔ہماری جماعت کے ایک نوجوان مولوی قائم الدین صاحب سیالکوٹ میں رہتے تھے۔وہ شاعر بھی تھے اردو کے بھی فارسی کے بھی اور عربی کے بھی۔بی اے میں پڑھتے تھے اور انہوں نے امتحان دیا اور امتحان میں پاس بھی ہو گئے۔مگر ان کو سند اس وقت ملی جب کہ وہ نزع کی حالت میں تھے۔اس لئے انسان کو جو کچھ حاصل کرنا چاہئے اسے مقدم رکھنا چاہیئے۔اس کے بعد فرمایا کہ ہم لوگ جو خدا کی طرف سے آتے ہیں (اس وقت حضور کا چہرہ نہایت پر جلال نظر آتا تھا) ہمیں ایک فراست دی جاتی ہے اس فراست کے ساتھ ہم جان لیتے ہیں کہ اس شخص میں رشد اور سعادت کا مادہ ہے مگرلوگوں کو ایک غلطی لگی ہوئی ہے۔وہ یوں سمجھتے ہیں کہ ولایت ایک ایسی چیز ہے جو ولیوں کی جیب میں ہے یا ان کے رومال کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اور جس شخص پر وہ خوش ہوں اس شخص کو جیب سے نکال کر یا رومال سے کھول کر دے دیتے ہیں مگر یہ غلط ہے۔اس میں شک نہیں کہ وہ ملتی انہی لوگوں سے ہے جو خدا کی طرف سے آتے ہیں۔مگر ان سے ملنے کا یہ طریق نہیں کہ وہ جب چاہیں دے دیں بلکہ جس طرح پر نالہ کے ذریعہ بارش کا پانی ملتا ہے اسی طرح ولایت بھی انہی کے ذریعہ ملتی ہے۔مگر اس کا طریق یہ ہے کہ ان لوگوں پر فیضان کے خاص وقت آتے ہیں۔ان اوقات میں جور شد اور سعادت والے لوگ ہوتے ہیں اپنی استعداد کے مطابق اس فیضان سے حصہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔اس طرح فیضان کے مختلف وقتوں میں حسب استعداد وہ اس قدر فیضان حاصل کر لیتے ہیں کہ جسے ولایت کہتے ہیں۔اس کے بعد فرمایا کہ اس خدا داد فراست کے ساتھ ہم لوگ جس میں اس رشد و سعادت کو دیکھ لیتے ہیں اگر وہ شخص فیضان کے نزول کے وقت موجود نہیں ہوتا تو ہمیں کچھ رنج اور افسوس ہوتا ہے کہ فلاں شخص موجود نہ تھا اگر ہوتا تو وہ بھی فائدہ اٹھا لیتا۔اس کے بعد فرمایا کہ خدا نے مجھے جو فراست دی ہے اس کے ساتھ میں آپ میں وہ رشد اور سعادت دیکھتا ہوں۔اس لئے میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کم از کم آٹھ نو مہینے میرے پاس رہیں۔اس پر آپ نے عرض کی کہ حضور گو میرے ساتھی چلے گئے ہیں مگر میں رہنے کے واسطے تیار ہوں۔اگر حضور اجازت