اصحاب احمد (جلد 5) — Page 53
۵۳ آجائیں۔چنانچہ جمعرات کا دن تھا۔صبح کی نماز کے بعد سب نے حضور سے واپسی کی اجازت چاہی۔حضور نے حسب معمول کچھ دن اور ٹھہرنے کے لئے فرمایا مگر میر صاحب کے اصرار پر حضور نے اجازت دے دی اور سب نے مصافحہ کیا۔حضور اندر تشریف لے گئے مگر پھر دروازہ سے باہر تشریف لائے۔اس وقت مولوی صاحب کے کچھ ساتھی سیڑھیوں پر اور کچھ نیچے پہنچ گئے تھے لیکن مولوی صاحب ابھی مسجد میں ہی تھے۔حضور نے فرمایا۔میں اس لئے واپس آیا ہوں کہ بارش بہت ہو چکی ہے اور راستہ میں پانی کھڑا ہے۔آپ کو سواری تو اس وقت کوئی ملے گی نہیں۔پیدل جانا پڑیگا اور وہ بھی پانی میں اور دیر سے آپ بٹالہ پہنچیں گے اس لئے آپ کھانا کھا کر روانہ ہوں۔مولوی صاحب نے عرض کیا بہت اچھا۔اس کے بعد حضور اندر تشریف لے گئے اور میر صاحب جو سیڑھیوں میں کھڑے تھے آپ سے سیڑھیوں سے اترنے پر کہنے لگے کہ حضور نے تو ہمارے فائدہ کے لئے ہی کہا ہے کہ ہم کھانا کھا کر روانہ ہوں مگر ہمارا فائدہ اسی میں ہے کہ ہم اسی وقت روانہ ہوں۔اس لئے کہ ہم بھوک برداشت کر سکتے ہیں مگر اس ملک کی دھوپ برداشت نہیں ہوتی۔اگر ہم ابھی چلیں تو دھوپ نکلنے سے پہلے بٹالہ پہنچ سکتے ہیں لیکن مولوی صاحب نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ کھانا کھا کر ہی جائیں گے کیونکہ جو حکم ہمارے فائدہ کے لئے ہے اس کی ہم تعمیل نہیں کریں گے تو جو کم ایسا ہو کہ جس میں ہمیں کچھ تکلیف پہنچے یا نقصان اٹھانا پڑے اس کی تعمیل ہم کب کریں گے۔چونکہ مولوی صاحب جانتے تھے کہ آپ کے دلائل میر صاحب کے اصرار کو نہیں روک سکتے اس لئے آپ نے میر صاحب کو کہا کہ آپ چلیں۔میں نے کچھ کتابیں خریدنی ہیں اور سامان کے واسطے ایک گھوڑا کرائے پر کیا ہے اس لئے میں گھوڑے کے ساتھ آؤں گا تا کہ کتا بیں نہ بھیگیں۔چنانچہ میر صاحب روانہ ہو گئے اور مولوی صاحب نے گھوڑے والے سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ وہ ایک گھنٹہ تک تیار ہو سکے گا۔آپ نے مہمان خانہ میں آکر اپنے پرانے دوست ملک غلام حسین صاحب رہتا سی ( مرحوم) کو کہا کہ تنور سے جو پہلی روٹی اُترے وہ مجھے لا کر دیں۔چنانچہ وہ لنگر خانہ کی طرف چلے گئے۔ابھی چند منٹ ہی گذرے تھے کہ فجا معمار جو اس وقت چھوٹا لڑکا تھا اور حضور کے گھر میں کام کرتا تھا وہاں آیا اور آواز دینے لگا کہ شربت شاہ ! شربت شاہ ! مولوی صاحب نے سمجھ لیا کہ آپ کو ہی بلاتا ہے اور اس سے پوچھا کہ شربت شاہ کو کیا کہتے ہو۔اس نے کہا کہ حضرت جی بلاتے ہیں۔آپ نے اسی جگہ سجدہ شکر ادا کیا اور دل میں کہا کہ اگر میں چلا گیا ہوتا تو اس لڑکے سے یہ معلوم کر کے حضور یہی خیال کرتے کہ بڑے نافرمان ہیں کہ انہی کے فائدہ کی بات کہی اور وہ بھی نہیں مانی۔