اصحاب احمد (جلد 5) — Page 49
۴۹ فیصلہ کرنے والی آیات ہیں۔مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح پھانسی نہیں چڑھا اور یہ آیات صفائی سے بتا رہی ہیں کہ وہی دعا جو خداوند یسوع مسیح نے کی بطور پیشگوئی داؤد وہی کہہ رہے ہیں اور اس میں ایسے الفاظ ہیں جو صاف طور پر موت پر دلالت کرتے ہیں اور یقیناً خداوند یسوع مسیح کے متعلق ہیں۔آپ نے تھوڑی دیر کے سکوت اور کچھ اس کی تصدیق کے بعد انگلی عبارت پڑھی جو یہ ہے وَعَندَ صُرَانِي إِيَّاهُ اسْتَمَعَ جس میں آگے ذکر ہے کہ اس کے شکریہ میں تیری کھوئی ہوئی بھیڑوں میں جاؤں گا اور تیری تقدیس بیان کروں گا اور تیری حمد اور شکریہ بجالاؤں گا اور تیرے نام پر قربانیاں کروں گا کہ تو نے اپنے بندہ کونجات دی۔آپ کی بحث کے اثر سے پادری کا پاگل ہو جانا آپ نے دریافت کیا کہ یہ عبارت کس کے متعلق ہے؟ تو وہ گھبرایا اور کہنے لگا کہ معلوم ہوتا ہے کسی اور کی نسبت ہے۔آپ سال ڈیڑھ سال میں اس کی طبیعت سے واقف ہو چکے تھے۔آپ نے بحث کی بجائے کہا کہ اگر آپ کی کانشنس یہی کہتی ہے تو مجھے کوئی انکار نہیں۔تو اس کا ہاتھ کانپنے لگا اور کہنے لگا کہ نہیں۔میری کانشنس ہرگز یہ نہیں کہتی اور مولوی صاحب سے پوچھا کہ آپ کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں آپ نے بتایا کہ میں احمدی ہوں۔اس پر پادری نے کھل کر بتایا کہ میں ایک کتاب لکھ رہا ہوں جس کے لئے میں نے بہت سے علماء ملازم رکھے ہوئے ہیں اور وہ مجھے قرآن مجید سے اسلام کے خلاف اور عیسائیت کی تائید میں حوالے نکال کر دیتے ہیں اور میں انہیں مرتب کرتا ہوں۔مگر میں بے حد حیران ہوں کہ جو معنے آپ کرتے ہیں ان سے اسلام کی تائید ہوتی ہے میں نے وہ ساری آیتیں آپ سے پوچھنی شروع کیں اور اب صرف تین باقی ہیں۔مجھے آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی ہے مگر صدمہ بھی ایساز بردست ہوا کہ شاید میں اس سے پاگل ہو جاؤں اور وہ یہ ہے کہ اس کتاب کے لئے مجھے میری قوم نے بے شمار روپیہ دیا ہے۔اب میں کیا جواب دوں گا۔چنانچہ واقعی وہ پاگل ہو گیا اور ولایت چلا گیا۔اس کے بعد جب مولوی صاحب قادیان آگئے تو آپ بٹالہ کسی سفر پر گئے۔گاڑی پر سوار ہونے لگے تو ایک انگریز آپ کی طرف بڑھا۔اس کی داڑھی اور بھنویں سب سفید تھیں اور پوچھا کیا آپ مولوی سرور شاہ ہیں؟ آپ نے کہا ہاں تو اس نے کہا میں پادری ڈے ہوں اور اچھا ہو کر ولایت سے واپس آ گیا ہوں اور یہاں انار کلی ( بٹالہ ) ایک لیکچر کے لئے آیا تھا۔گویا اس شدید صدمہ کی وجہ سے دو تین سال میں اس کے تمام بال سفید ہو گئے۔