اصحاب احمد (جلد 5) — Page 48
۴۸ چلے جائیں گے۔صبح آپ نے تانگہ ایجنسی میں ایک سیٹ ریزرو کرانے کے لئے لکھا۔تانگہ بارہ بجے روانہ ہوتا تھا۔گیارہ بجے آپ طلباء کو کہہ رہے تھے کہ ایک ماہ خواہ تم یہاں گذار و یا اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔ایک ماہ بعد میں وطن آ جاؤں گا۔پھر تم وہاں آ جانا۔اسی اثناء میں آپ کو پادری ضیاء الدین کا پشاور سے ایک خط آیا کہ فرنٹیئر کے تمام انگریزی مشنوں کے افسر اعلیٰ پادری ڈے صاحب جو عربی کے اچھے ماہر ہیں مزید عربی پڑھنا چاہتے ہیں۔کئی استاد انہوں نے رکھے مگر آخر انہیں چھوڑنا پڑا۔میں نے ایبٹ آباد کے سابقہ تعارف کی وجہ سے آپ کا نام اچھا عالم سمجھتے ہوئے بتایا ہے۔وہ چاہتے ہیں کہ آپ چودہ تاریخ تک پہنچ جائیں وہ ایک گھنٹہ روزانہ پڑھا کریں گے ( حضرت مولوی صاحب کو راتم خط کا ایبٹ آباد میں ملنا یاد نہیں تھا) سیدھا روانہ ہونے پر آپ وقت پر پہنچ سکتے تھے۔چنانچہ آپ اسی تانگہ پر حسن ابدال اور وہاں سے ریل میں پشاور پہنچے اور پادری مذکور کو پڑھانا شروع کیا۔پادری ڈے کا در پردہ مقصد اس نے بتایا کہ کئی استادوں کو وہ نا قابل سمجھ کر جواب دے چکا ہے۔وہ خود قابل تھا اور اسے عربی پڑھنے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔دراصل وہ اسلام کے خلاف ایک ایسی کتاب لکھنا چاہتا تھا جس میں قرآن مجید سے عیسائیت کی تائید اور جو مسلمان اس کے خلاف کہتے ہیں اس کی تردید پیش کرے اور اس غرض کے لئے اسے اپنے ملک سے کافی روپیہ آ رہا تھا اور اس نے کئی مولوی ملازم رکھے ہوئے تھے جو خفیہ طور پر خاص وقت میں اس کے ملازم پیشہ لوگوں کے کوارٹروں میں مختلف کمروں میں بیٹھ کر ایسے حوالے تلاش کر کے دیتے تھے۔جب اسے آپ کی قابلیت معلوم ہوگئی تو اس نے یہ طریق اختیار کیا کہ سبق کے وقت آپ سے کوئی آیت پوچھ لیتا یا کسی حدیث پر بحث شروع کر دیتا اور سبق نظر انداز کر دیتا اور اس طرح بجائے ایک گھنٹہ کے تین تین گھنٹے صرف ہو جاتے۔حضرت مولوی صاحب کو ابھی تک ان باتوں کے پوچھنے کی وجہ معلوم نہ تھی۔ایک دن آپ کو خیال آیا کہ اگر کسی سے سوال ہی کرتے چلے جائیں عالم الکل تو خدا ہی ہے کسی نہ کسی وقت اس سے کوئی کمزوری بھی ظاہر ہوسکتی ہے اور یہ ایک لمبے عرصہ سے سوال کر رہا ہے۔مجھے بھی چاہیئے کہ اس سے کوئی مذہبی سوال پوچھوں۔چنانچہ ایک دن بحث کے دوران میں آپ نے بائیل سے ۲۲ زبور مغنی کی کچھ عبارت پڑھی جس میں بعینہ وہ الفاظ تھے کہ جن میں حضرت مسیح جس دن پکڑے گئے دعائیں کرتے تھے اور دعائیہ الفاظ کے متعلق دریافت کیا کہ کس کے متعلق ہیں۔پادری کا چہرہ دمک اٹھا اور کہنے لگا یہی تو ہمارے اور مسلمانوں کے درمیان ما بہ النزاع کا