اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 639 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 639

۶۴۵ ہیں کہ رقت قلب کو کہتے ہیں تو اس سے عوام یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ جو کچھ بیان ہوا ہے وہ اس مضمون کے ضروری اجزاء ہیں۔حالانکہ وہ ان کے لئے ضروری اجزاء نہیں ہوتے بلکہ وہ انسان میں ان معنوں کے حاصل ہونے کا طریق ہے اور وہ لفظ اور اس کے معنے عام ہوتے ہیں۔اور انسان کے سوا اوروں میں بھی پائے جاتے ہیں اور اوروں میں ان معنوں کے حاصل ہونے کا اور ہی طریق ہوتا ہے جو کہ بیان شدہ طریق سے بالکل متفائر ہوتا ہے۔پس اس ساری غلطی کی جڑ پہلے تو اہل لغت کا یہ طریق ہے اور اس کے بعد یہ خیال کر لینا ہے کہ ان معنوں کے ضروری اجزاء ہیں کہ جن کے سوا اس لفظ کے معنے حاصل ہو سکتے ہیں ہی نہیں۔حیا اور استحیاء میں بھی بعینہ ایسا ہی ہوا ہے کہ اہل لغت نے کہ اس کی تفسیر انقباض من النفس کے ساتھ کی ہوئی ہے وہ اس کے اصل معنے نہیں بلکہ اس کے معنوں کا انسان میں حاصل ہونے کا طریق بیان ہوا ہے اور بس۔اور اس صورت میں ہرگز یہ لازم نہیں آتا کہ جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہو وہاں پر نفس اور نفس کا انقباض بھی ضرور ہونا چاہئے۔بلکہ ان کی ضرورت خاص انسان ہی میں ہے نہ اوروں میں، اور یہ طریق اگر چہ مضر ہے۔لیکن اہل لغت کو عموماً اس مجبوری سے اختیار کرنا پڑا ہے کہ کیفیات اور بعض صفات ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو لوگ جانتے تو ہیں پر لفظ کے ساتھ وہ بیان نہیں ہوسکتیں۔مثلاً رحمت ایک کیفیت کا نام ہے اور اس کیفیت کو عموماً لوگ جانتے ہیں لیکن الفاظ کے ساتھ اس کا بیان نہیں ہوسکتا۔پس اس مجبوری سے انہوں نے بجائے ان کے معنے بیان کرنے کے ان کے حصول کا طریق بیان کر دیا ہے یا ان کے اور آثار و عوارض بیان کر دئے ہیں لیکن جو کیفیات وصفات مختلف اشیاء میں پائی جاتی ہیں۔ان کے حصول کے طریق وغیرہ بھی جدا جدا ہوتے ہیں۔اور استعمال اور زیادہ ضرورت جس کی وہ دیکھتے ہیں اسی کی بیان کر دیتے ہیں تو اس سے عوام الناس یہ خیال کر لیتے ہیں کہ یہ اس کے معنے ہیں جس سے غلطی میں پڑ جاتے ہیں۔حالانکہ وہ اس کے معنے نہیں بلکہ اس کے حصول کا طریق وغیرہ ہے۔اور وہ بھی کسی خاص شے میں نہ عام طور پر۔مثلاً رحمت کی اصل حقیقت تو بیان ہو سکتی نہ تھی لہذا انہوں نے اس کے عوض اس کے حصول کا طریق بیان کر دیا۔اور وہ بھی خاص انسان کی نسبت نہ عام طور پر اور وہ طریق یہ بتایا کہ رحمت رفت قلب کو کہتے ہیں اور اسی طرح غضب کی تفسیر میں کہہ دیا کہ انتقام کے لئے خون کے جوش مارنے کو کہتے ہیں۔اس بحث کو میں نے اس لئے طول دیا ہے کہ ایسے الفاظ بہت کثرت کے ساتھ ہیں۔جو مختلف اشیاء پر بولے جاتے ہیں یہاں تک کہ مخلوق اور خالق دونوں پر اطلاق پاتے ہیں۔اور جوان کے معنے بتائے جاتے ہیں وہ بعض اشیاء میں تو ٹھیک پائے جاتے ہیں اور بعض میں نہیں پائے جاتے تو اس سے بڑے بڑے اعتراض اور بڑی بڑی بحثیں واقع ہوتی ہیں جن کا فیصلہ ہونے میں آتا ہی نہیں۔تو میں نے مناسب سمجھا کہ ناظرین کی خدمت میں اس سارے نزاع کی اصلیت عرض کردوں تا کہ جہاں کہیں یہ مشکل پیش آئے تو وہ آسانی سے حل