اصحاب احمد (جلد 5) — Page 607
۶۱۳ ۵۴- عدت کا فلسفہ استفتاء ( از پرائیویٹ سیکرٹری صاحب حضور ایدہ اللہ تعالی ) ۱- ایک عورت جو عرصہ تین سال سے اپنے خاوند سے علیحدہ رہتی ہے اگر اس قدر عرصہ علیحدہ رہنے کے بعد اسے طلاق دی جاوے تو بعد از طلاق عدت گزارنے کی ضرورت ہے یا بعد از طلاق نکاح کر سکتی ہے۔( کیونکہ عدت حمل کے لئے ہے اور وہ ہے نہیں) -۲ عورت کا ذبیحہ کھانا حلال ہے یا حرام؟ فتویٰ یہ بالکل غلط ہے کہ صرف حمل کے واسطے عدت ہوتی ہے۔اگر حمل کے واسطے ہی عدت ہوتی تو صرف ایک ہی حیض سے پتہ چل سکتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ لونڈی کے بارے میں صرف ایک حیض کی ضرورت ہے۔اور اس کا نام استبراء رکھا گیا ہے۔یعنی رحم کا حمل سے پاک ہونا لیکن طلاق یا وفات کے بعد جو چیز ہے اس کا نام شریعت نے استبراء نہیں رکھا کہ جس کے معنے رحم کے حمل سے پاک ہونے کے ہوں۔بلکہ اس کا نام عدت رکھا گیا ہے اور عدت کے معنے شمار کے ہیں نہ کہ حمل سے پاک ہونے کے۔پس یہ ایسی بات ہے جو کہ خود اپنے آپ ہی تردید کرتی ہے کہ عدت صرف حمل کے واسطے ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ شریعت نے اس بات کو مد نظر رکھا ہے کہ جب کوئی عورت کسی خاندان میں بیا ہی جاتی ہے اور پھر آزاد ہونے کے بعد جب وہ کسی دوسرے خاندان میں شادی کرنا چاہتی ہے تو پہلے خاندان کو ایسا کرنا نا گوار معلوم ہوتا ہے اور یہ فطرتی اور طبعی بات ہے جو ہر ایک قوم میں پائی جاتی ہے اور اس کا یہ کرشمہ ہے کہ بہت سی خوام بیوہ کی شادی کو نا پسند کرتی ہیں اور اپنے قومی وقار کی تو ہین سمجھتی ہیں۔پس اس قوم کے جذبات کا تقاضا یہ ہے کہ آزادی کے بعد شادی نہ کرے۔لیکن اس عورت کی فطرت اور طبیعت کا تقاضا یہ ہے کہ آزاد ہوتے ہی اور حیض آنے سے پہلے ہی یہ نکاح ثانی کرے۔اس لئے عورت میں مرد سے ملنے کا جذ بہ جب پوری انتہاء کو پہنچتا ہے۔وہ خاص ایام کے ختم ہونے کے بعد ہوتا ہے یا خاص ایام سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔کیونکہ وہی زمانہ استقرار حمل کا ہوتا ہے۔اور اس حمل ہی کی وجہ سے یہ جذبہ اس میں رکھا گیا ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جانوروں کے حمل کے جو ایام ہیں۔جب وہ ایام آجاتے ہیں تو ان میں ایک بے چینی اور حد سے بڑھا ہوا اضطراب پایا جاتا ہے۔چنانچہ بھینس زنجیر رسہ وغیرہ تڑا کر کے بھاگ جاتی ہیں۔بلی کو دیکھا جاتا ہے کہ وہ سارے شہر اور محلے میں شور مچادیتی ہے اور عورت میں ایسا ہی جذبہ پیدا ہوتا ہے لیکن قدرت نے اس میں حیا رکھا ہے۔جو اسے ایسی حرکات کے ارتکاب سے روک دیتا ہے۔