اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 606 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 606

۶۱۲ ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور امام اگر اپنی زبان میں مثلاً اردو آواز میں بآواز بلند دعا مانگتا جائے اور پیچھے آمین کرتے جائیں تو کیا یہ جائز ہے۔جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی آواز میں دعائیں نماز میں کیا کرو۔فرمایا دعا کو بآواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے خدا تعالیٰ نے تو فرمایا تضرعًا وخفية اور دون الجهر من القول۔عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیا کرتے ہیں۔فرمایا ہاں ادعیہ ماثورہ جو قرآن وحدیث میں آچکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جاویں باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی میں پڑھنی چاہئیں۔‘ ۸۰ ۵۲- کیا حرجانہ جائز ہے استفتاء۔اگر پرچی کے نیچے یہ عبارت لکھی ہوئی ہو کہ اس پر چی کی رقم ایک ہفتہ تک ادا کروں گا۔بصورت عدم ادائیگی دو آنے فی ہزار خشت ہفتہ واری تجارتی ہرجانہ عند الطلب ادا کروں گا۔کیا اس قسم کی رقم وصول کرنا اسلام نے جائز رکھا ہے۔فتوی: حدیث شریف میں آیا ہے کہ كُلُّ قرض جرنفعًا فھورہی۔( جو قرض کسی قسم کا نفع قارض کو دے وہ سود ہے ) صورت مندرجہ استفتاء میں گو اس زائد رقم کا نام تجارتی ہرجانہ رکھا گیا ہے لیکن یہ نام اس زائد رقم کو اس سے باہر نہیں کرتا کہ یہ قرض نے قارض کو بطور نفع دلایا ہے۔اور یہ نا جائز ہے۔ہاں اگر یہ رقم انجمن وغیرہ کو بطور ہر جانہ ادا کرنی ہوتی تو پھر یہ جائز ہوتا۔(۳۸-۰۳-۰۴) ۵۳ کیا ز ررہن کے مطابق کرایہ لینا جائز ہے استفتاء مرتین سے مکان مر ہونے کا کرایہ کی حیثیت پر لینا درست ہے یارو پیر کی حیثیت پر ؟ فتویٰ : سیدنا حضرت خلیفتہ اسی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ ارشاد اخبار میں شائع شدہ ہے کہ مکان کا اس طریق پر رہن کرنا اسی صورت میں جائز ہے کہ رہن نامہ میں یہ لکھا جائے کہ فریقین ( راہن ومرتہن ) میں سے ہر ایک کو کرایہ کے بڑھانے اور کم کرنے کا اختیار ہو گا یعنی اگر حالات منتقفی ہوں گے کہ موجودہ کرایہ سے کرایہ بڑھا دیا جائے تو مرتہن راہن سے زیادہ کرایہ کا مطالبہ کرے اور اگر موجودہ کرایہ سے کچھ کم کرنے کے متلقفی ہوں تو راہن مرتہن سے کم کرایہ دینے کا تصفیہ کر سکتا ہے۔پس اس سے صاف ظاہر ہے کہ کرایہ کی بناء مکان کی حیثیت اور گردو پیش کے حالات پر ہے نہ کہ رہن کی مقدار پر۔اور اگر رہن کی مقدار پر کرایہ مقرر ہو تو پھر یہ صریح سود ہے جو کہ قطعاً حرام ہے۔(۳۸-۰۵-۱۷)