اصحاب احمد (جلد 5) — Page 594
یہی حکم ہے اور اگر اس پر نہیں تو پھر تفصیل لکھنے پر جواب دیا جائے گا۔(۳)، (۴) کا جواب یہ ہے کہ بنک خواہ گورنمنٹ کے ہوں یا اوروں کے ہوں بانیوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اپنے مقاصد میں روپیہ صرف کرنے کے لئے بوعدہ واپسی اور ادائیگی لوگوں سے روپیہ حاصل کریں۔اور اس کو قرض کہتے ہیں۔خواہ نام تکثیر تحصیل کے لئے بدل بدل کر کچھ رکھیں۔اور قرض پر نفع لینا سود اور ممنوع ہے۔ہاں سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے کہ ایسے روپیہ کا سوداگر ملے تو وہ صرف اور صرف اشاعت اسلام پر صرف ہوسکتا ہے۔(۳۴-۱۰-۰۱) -۲۹ چا اور بھائی میں سے کون مقدم ولی ہے استفتاء۔ایک لڑکی بالغ مختلع جس کا والد فوت ہو چکا ہے۔اس کی والدہ زندہ موجود ہے اس کا ایک بھائی بعمر بارہ سال موجود ہے۔اس کا ایک حقیقی چا بھی موجود ہے لیکن چا اور لڑکی اور اس کی والدہ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔لڑکی جہاں رشتہ کرنا چاہتی ہے۔چاروک بنتا ہے۔جہاں چا چاہتا ہے وہاں لڑکی رضامند نہیں ہوتی۔اب اس صورت میں کیا چچا کی ولایت ضروری ہے یا کہ نہیں۔فتوی: ثیبہ ہو یا بکر۔نکاح بغیر رضا کے نہیں ہو سکتا۔ہاں دونوں کی رضا کے اظہار میں فرق ہے۔چچا مقدم ولی ہے لیکن جب ولی اور لڑکی میں اختلاف ہو جائے یا دو ولیوں میں اختلاف ہو تو پھر خلیفہ وقت کی اجازت فیصلہ کن ہوتی ہے۔(۳۵-۰۱-۱۲) - لڑکیوں کو ورثہ کس وقت دینا چاہئے استفتاء۔ہم احمدی لوگوں کو لڑکیوں کو حصہ کس وقت دینا چاہئے۔آج کل جائیداد میں سے لڑکی کا کیا حصہ ہے کیا شادی کر دینے کے بعد ہی حصہ ادا کر دینا چاہئے یا والد کی زندگی کے بعد ادا کر دینا چاہئے۔اگر والد کی زندگی کے بعد لڑکی کو حصہ دیا جاتا ہے تو قبل از زندگی کی جائیداد کی پیداوار دینا چاہئے یا نہیں۔جو والدین لڑکی کو جائیداد نہیں دیتے کیا ان کو جماعت سے خارج کیا جاتا ہے؟ فتوی: اسلام میں لڑکیوں کے لئے جو حصہ مقرر کیا گیا ہے اور جسے ورثہ مقرر کیا گیا ہے وہ میت کی وفات کے بعدا دا کیا جاتا ہے۔اور والدین اپنی زندگی میں جو جائیداد یا اور کوئی مال لڑکیوں کو دے دیں وہ ورثہ نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہ عطیہ یا ہبہ ہے جو والدین کو اجازت ہے کہ وہ اپنی اولا دکوخواہ وہ لڑ کے ہوں یا لڑکیاں ہبہ اور عطیہ دیں۔لڑکیوں کی شادی ہوئی ہو یا نہ ہوئی ہو ان کو اس وقت حصہ ملے گا۔جبکہ ان کے والدین یا دونوں سے