اصحاب احمد (جلد 5) — Page 542
۵۴۸ فراست دی ہوئی ہے اس سے مجھے یقین ہے کہ آپ میرے سامنے جھوٹ نہیں بول سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایک صحابی کی گواہی پر فیصلہ کیا تھا۔اور آپ جو کچھ قسمیہ بیان کریں گے اسے صحیح تسلیم کروں گا۔میں نے قسمیہ طور پر ساری تفصیل کہہ سنائی کہ کس طرح مجھے علم ہوا اور کیا کچھ میں نے تحقیقات کی۔حضور سن چکے تو فرمایا کہ اب اس کو کہو کہ اس نے بر ملاطور پر ایک شخص پر الزام لگایا ہے وہ میری مجلس میں بیان کرے کہ میں نے غلط کہا تو وہ بری ہے ورنہ اس کا گناہ سب اس پر ہے۔چنانچہ مرزا خدا بخش صاحب اور میں نے مہمان خانہ میں لوگوں کو جمع کیا اور۔۔۔۔صاحب کے پاس گئے اور حضور کے ارشاد سے اطلاع دی۔وہ میرے ساتھ آئے اور دروازہ کی اوٹ میں چپ کر کے بیٹھے رہے اور کوئی بات نہ کی۔میرا خیال ہے کہ شرمندگی کی وجہ سے بات نہیں کہہ سکے۔اور پھر اس مجلس سے چلے گئے اس بات کی اطلاع میں نے حضور کو دے دی۔۔۔خود ہی قادیان سے چلے گئے اور کئی سال تک قادیان نہیں آئے ہیں ۷- حضور کا حلف اور ڈاکٹر سید عبدالستارشاہ صاحب کی بیعت بیدانہ کے موسم میں حضور باغ والوں کو کہلا بھیجتے کہ بیدا نہ کے ٹوکرے بھر کر تیار رکھیں اور حضور مہمانوں کو لے جا کر اکٹھے مل کر کھاتے۔ایک دفعہ ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب والد حضرت ام طاہر مرحومہ قادیان آئے ہوئے تھے۔باغ کے راستہ میں حضور نے ان سے یہ بات شروع کی کہ جہاں تک میری یاد جاتی ہے۔مجھے عیسائیت سے بچپن سے ہی سخت دشمنی ہے اور یہ عداوت میری فطرت میں ودیعت ہوئی ہے۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ باغ کی طرف مڑنے کے لئے سڑک بہشتی مقبرہ سے جامن کے درخت کے پاس سے اتر تے ہوئے حضور نے جوش سے بیان کیا کہ عیسائیت کی مخالفت میرے رگ وریشہ میں بھری ہوئی ہے۔ڈھاب کے کنارے سڑک سے جانب غرب مفتی فضل الرحمن صاحب مرحوم کا مکان ہے اس کے قریب جامن مذکور ہے۔ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کیا اس پر حضور قسم کھا سکتے ہیں۔حضور نے قسم کھائی اور یہ تم ہی ڈاکٹر صاحب کا کام کر گئی۔بیدا نہ کھانے کے بعد باغ میں ہی ڈاکٹر صاحب نے بیعت کی ہو یہ صاحب فوت ہو گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے مغفرت کا سامان کر دیا ان کا انجام بخیر ہوا۔میں طبع ثانی کے وقت یہ روایت انشاء اللہ تفصیل کے ساتھ شائع کر دوں گا۔جامن کا یہ درخت ۱۹۶۲ء میں پختہ چار دیواری بہشتی مقبرہ کی تعمیر کے تعلق میں کاٹ دیا گیا تھا۔مکان مفتی فضل الرحمن صاحب موجود ہے۔اس تعلق میں سیرۃ المہدی کی ذیل کی روایت درج کی جاتی ہے جس سے روایت