اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 541 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 541

۵۴۷ کا علم نہ ہو۔پس آپ تلاش کریں ضرور مل جائے گی۔مولوی سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ اس پر حضرت مولوی صاحب گئے اور کوئی آدھا گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ خوش خوش ایک کتاب ہاتھ میں لئے آئے اور حضرت صاحب کو اطلاع دی کہ حضور حدیث مل گئی ہے اور حدیث بھی ایسی کہ جو علی شرط استیخین ہے جس پر کوئی جرح نہیں پھر کہا کہ یہ حضور ہی کے ارشاد کی برکت ہے۔‘۴۴ - مولوی ثناء اللہ اور علماء کو اعجاز احمدی پہنچانا آپ نے مجھے تحریر کروایا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اور بعض دوسرے مولویوں کو اعجاز احمدی“ کے نسخے دینے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے اور شیخ یعقوب علی صاحب شعر فانی کو امرت سر بھیجا۔پہلے ہم میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرت سری کے پاس گئے۔وہ ان صحابہ میں سے تھے جن سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خوش تھے۔اور وہ حضور سے بات کر لیتے تھے اور مخلص تھے۔چنانچہ ہم مولوی ثناء اللہ صاحب کو کتاب دینے گئے۔وہ عرفانی صاحب کے بھی پہلے سے واقف تھے۔اسی بناء پر باتیں کرتے رہے کتاب کے متعلق کچھ نہیں کہا۔دوسرے بعض مولویوں کو بھی ہم نے کتا ہیں پہنچائیں۔- مولوی محمد سرور شاہ صاحب کی قسم پر اطمینان و فیصلہ ایک امر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی نورالدین صاحب ، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب اور سید محمد احسن صاحب، نواب محمد علی خان صاحب اور مرزا خدا بخش صاحب کے ذریعہ تحقیقات کروائی لیکن حضور نے پھر تحقیقات کرنے کو کہا۔اپنے طور پر اس بارہ میں حضرت مولوی سرورشاہ صاحب تحقیقات کر کے اس نتیجہ پر پہنچ چکے تھے اور آپ نے اپنی تحقیقات کا ذکر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے کر دیا تھا۔مؤخر الذکر حضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جس نتیجے پر پہنچے تھے اس کے متعلق دلائل پیش کئے اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کیا کہ مولوی محمد سرور شاہ صاحب نے یوں اپنی تحقیق بیان کی ہے۔اس پر حضور نے فرمایا کہ اگر مولوی سرور شاہ صاحب گواہی دے دیں تو میں ان اکیلے کی گواہی پر فیصلہ تسلیم کرلوں گا۔حضور کی طرف سے ایک لڑکا آپ کو بلانے آیا۔آپ پہنچے تو حضور اور مولوی عبد الکریم صاحب اندر گھر کے دالان میں ایک چارپائی پر بیٹھے تھے۔آپ کو بھی حضور نے اسی چارپائی پر بیٹھنے کو کہا۔چوتھا کوئی شخص وہاں نہیں تھا۔مولوی صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور نے میرے سامنے الزام کی نوعیت اور اس کی تحقیقات کرانے اور ان لوگوں کے فیصلہ کا ذکر کر کے اپنے شبہ کا اظہار کیا کہ کہیں رعایت نہ ہو۔اور فرمایا کہ چونکہ مجھے اللہ تعالیٰ نے