اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 519 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 519

۵۲۴ صاحب نے افیون یک لخت ترک کر دی۔اس کی وجہ سے مولوی صاحب کی آواز پر اس کا اثر پڑ گیا۔مگر آپ نے اس کو کوئی پر اوہ نہ کی۔واللہ اعلم * اس روایت سے حضرت مولوی صاحب کے عزم اور نفس کشی کے تعلق ☆☆ میں صبر و استقامت کا اندازہ ہوتا ہے۔۵- حضرت مولوی صاحب رضی اللہ عنہ جس بات ( دینی مسئلہ کو صحیح سمجھتے تھے۔اس پر مضبوطی سے قائم رہتے تھے۔اور کسی کی مخالفت یا و جاہت آپ کے پایہ ثبات میں تزلزل بر پا نہیں کر سکتی تھی۔مشاورت کی ایک رپورٹ میں ( یہ سلسلہ سکیم امداد پسماندگان بیمہ وغیرہ کے طریق پر ) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کا یہ ارشاد بھی درج ہے کہ چونکہ مولوی سرور شاہ صاحب اس بات ( بیمہ وغیرہ کی نقل کرنے ) کے خلاف تھے۔اس لئے اس کو چھوڑ دیا گیا۔- جب جناب صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب نے قرآن شریف ( حافظ ریل صاحب اور حافظ سلطان احمد صاحب ملتانی سے ) حفظ کر لیا تو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے آپ کو حضرت مولوی صاحب کا شاگرد بنادیا۔اور محترم صاحبزادہ صاحب آپ سے عربی وغیرہ پڑھ کر ہمارے ساتھ مدرسہ احمدیہ کی پانچویں جماعت میں داخل ہوئے۔پھر آپ نے مزید تعلیم جاری رکھنے کی وجہ سے جلدی چھٹی وساتویں پاس کی اور ایک دفعہ جامعہ احمدیہ میں پہنچ گئے گویا جس طرح حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حکم سے حضرت خلیفتہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی خاص شاگری حاصل ہوئی۔اسی طرح محترم صاحبزادہ میرزا ناصر احمد صاحب کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے حکم سے حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کی خاص شاگردی بھی مولوی فاضل تک حاصل ہوئی۔اور جب حضرت مولوی فضل الدین صاحب معمار ولد محمد بخش صاحب نے ۱۹۳۵ء میں لکھوایا کہ میری بیعت و زیارت ۱۸۹۵ء کی ہے۔اور اسی سال میر قاسم علی نے بھی لکھوایا کہ میری تحریری و دستی بیعت ۱۹۰۲ء کی ہے۔اور مولوی صاحب کی بیعت ۱۸۹۷ء کی ہے۔اور مولوی صاحب پہلی بار قادیان ۱۸۹۸ء میں آئے تھے۔سوان سب کی پہلی بیعت اکٹھی نہیں ہوسکتی۔اس لئے فضل الدین صاحب کے بیان کے اتنے حصہ میں سہو ہے۔احباب پھر بھی بیعت کرتے رہتے تھے۔ممکن ہے کسی وقت بیعت میں یہ سب جمع بھی ہو گئے ہوں۔(مؤلف) سابقاً بیان ہو چکا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے بیعت بذریعہ خط کی تھی۔اور ترک افیون آپ نے اس وقت کی جب کئی سال بعد آپ ہجرت کر کے قادیان چلے آئے تھے یعنی ۱۹۰۱ء میں ( شرح وبسط سے جلد اول میں تحریر کیا جا چکا ہے )۔(مؤلف)