اصحاب احمد (جلد 5) — Page 518
۵۲۳ مقام یا زمانہ پر بند کر دینا چاہتی ہے ) نبرد آزما ہیں۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی خاتم النبیین اور حدیث لا نبی بعدی پر مفصل بحث کی ہے اور میرے خیال میں آپ ہماری جماعت میں سے پہلے شخص ہیں جنہوں نے امت محمدیہ میں فیوض نبوت محمدیہ تا قیامت جاری رہنے کا نہایت شرح وبسط سے غالباً ۱۹۰۵ء میں الحکم میں ذکر کیا ہے۔وَإِنَّ الْفَضْلِ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَاء۔آپ سلسلہ کے سب کام بہشتی مقبرہ ، قادیان کی خدمت و تعہد، دار الافتاء میں کام وغیرہ بغیر کسی الاؤنس لینے کے بجالاتے تھے اور صرف اسی تنخواہ پر زندگی بسر کرتے تھے جو آپ کو مدرسہ احمدیہ اور بعد میں جامعہ احمدیہ سے ملتی تھی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں پندرہ روپیہ سے شروع ہوئی تھی۔گویا آپ اپنے واجب کام سے جو کام زائد کرتے تھے وہ بغیر کسی معاوضہ کے ہی کرتے تھے اور کسی قسم کا ظاہری یا خفیہ فائدہ ان سے حاصل نہیں کرتے تھے۔وَالله يتولَّى الصَّالِحِین۔لیکن اس بات کے ذکر کرنے سے میرا یہ مقصد نہیں کہ بوقت ضرورت زائد الاؤنس دینا یا لینا منع یا نا جائز ہے۔۴- مستری فضل دین صاحب معمار رضی اللہ عنہ جنہوں نے منارہ مسیح قادیان کی بنیادی اینٹ رکھی یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جس اینٹ پر دعا فرمائی تھی اسے حضرت کے حکم کے مطابق اپنے ہاتھ سے منارة امسیح کی بنیاد میں رکھا اور پھر منارہ مسیح کی تعمیر کا کام بھی کیا یہ انہوں نے جب وہ ۳۳۔۔۱۹۳۲ء میں محلہ دارالرحمت قادیان میں ہمارے مکان کی تعمیر کا کام کرتے تھے اور دارالرحمت میں ہی مستری امین اللہ صاحب مرحوم اور ان کے بڑے بھائی صاحب منشی محمد اسمعیل صاحب مرحوم کے مکان میں رہتے تھے۔بتلایا کہ میں ( مستری فضل دین صاحب) نے میر قاسم علی صاحب اور مولوی سرورشاہ صاحب نے متینوں نے ایک ہی دن اکٹھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔میر صاحب کو اور مجھے حقہ پینے کی عادت تھی اور مولوی محمد سرور شاہ صاحب افیون کھانے کے عادی تھے مگر بیعت کرتے ہی مولوی سرورشاہ اس بارہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ ( بعد ہ خلیفہ اسی اول) کے ارشادات بھی ملتے ہیں مگر وہ نہایت مختصر اور بسا اوقات چند سطروں سے زیادہ نہیں لیکن حضرت مولوی سر ورشاہ صاحب کا مضمون تین چار صفحات مشتمل اور مفصل ہے۔( محمد شریف) یہ میرے خاندان کی خوش قسمتی ہے کہ میرے سب سے بڑے بھائی چوہدری غلام رسول صاحب ٹھیکیدار حال مقیم ربوہ نے بھی خلافت ثانیہ کے شروع میں منارۃ المسیح کی تکمیل کے وقت تعمیر کا کام تا تکمیل کرنے کا شرف وزیر ہدایت و نگرانی حضرت نانا جان میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ حاصل کیا۔( محمد شریف )