اصحاب احمد (جلد 5) — Page 27
۲۷ کچھ گفتگو کی جس سے ان کی طبیعت پر ایسا اثر پڑا کہ جب تک آپ لاہور میں رہے اور مولوی صاحب سالانہ امتحان کے وقت ممتحن ہوتے تو وہ آپ کو ۱۰۲/۱۰۲ نمبر دیتے۔یعنی پرچہ کے پورے نمبر ۱۰۰ اور ایک نمبر عربی زبان میں اور ایک نمبر عربی خط میں لکھنے کی وجہ سے۔گو اساتذہ نے حسن ظنی کی بناء پر آپ کو امتحان سے پہلے ہی قابل اعتماد مدرسہ کا استاد مقرر کر دیا تھا مگر آپ سمجھتے تھے کہ جب آپ نے کتا ہیں دیکھی ہی نہیں تو بظاہر فیل ہی ہونگے۔امتحان میں کامیابی کے متعلق خواب امتحان کی پہلی رات کو آپ نے خواب دیکھا کہ آپ ایک باغ میں گئے ہیں اور اس کے کنارہ پر ایک سادہ قبر ہے۔اس میں چھوٹا سا سوراخ ہے۔آپ سمجھتے ہیں کہ یہ مولانا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند کی قبر ہے۔آپ قبر کے پاس کھڑے ہوئے اسی وقت مولانا اس سوراخ سے برآمد ہوئے۔کھدر کا لمبا گر نہ اور کھڈ رکی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ایک گریبان کے چھاتی پر سے دونوں کنارے ایسے معلوم ہوتے ہیں جیسے کپڑے کو زیادہ سینک لگ جائے اور وہ قدرے جھلس جائے۔آنکھیں بالکل سُرخ ہیں اور آسمان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔انہوں نے کوئی بات نہیں کی اور قبر سے نکلتے ہی دیو بند شہر کی طرف چل پڑے۔ایک بہت بڑا عالی شان ہال جو لا ہور اسٹیشن کی طرز کا ہے اس میں کئی قطار میں چھوٹی میزوں کی لگی ہوئی ہیں اور ہر میز کے اوپر کاغذوں کا دستہ اور قلم و دوات اور ہر میز کے پاس ایک کرسی ہے اور قلم ایک نہیں بلکہ سرکنڈے کی کئی قلمیں ہیں۔مولا نا چلتے چلتے اس ہال میں آگئے اور درمیانی قطار کے عین وسط کے قریب ایک میز کے پاس آ کر کھڑے ہو گئے ہیں۔اس سارے عرصہ میں مولوی سرورشاہ صاحب سے نہیں بولے لیکن اب آپ کی طرف دیکھ کر پو چھا کہ یہ تمہاری میز ہے؟ آپ نے کہا۔ہاں۔تو انہوں نے قلم لے کر دوات میں سے سیاہی لی اور ان کاغذوں کے آخر میں صرف’ پاس لکھ کر واپس چلے گئے۔اس قدر نظارہ دیکھ کر آپ بیدار ہوئے۔اس سارے ہفتہ میں آپ صرف چند منٹ ہی سوئے تھے اور ان میں یہ خواب دیکھا تھا۔صبح امتحان شروع ہوا۔وہاں کا دستور ہے کہ جس کے نمبر دوسروں سے زیادہ ہوں اور بخاری شریف کے امتحان میں خصوصیت کے ساتھ اول آئے اسے اوّل قرار دیتے ہیں۔پہلے ہی دن بخاری کا امتحان تھا۔سوالات کا پرچہ پڑھتے ہی آپ پر گہری نیند طاری ہوئی اور پرچہ ہاتھ سے گر پڑا۔غم بکلی کا فور ہوا اور سوالات بالکل سہل معلوم ہونے لگے۔آپ نے نگران کو کہا کہ میں ہفتہ بھر نہیں سو یا سخت نیند آ رہی ہے۔اگر اجازت دیں تو میں پندرہ منٹ یہیں سو جاؤں۔اس نے اجازت دے دی۔چنانچہ پندرہ منٹ سو کر آپ نے پر چہ لکھا۔