اصحاب احمد (جلد 5) — Page 26
۲۶ لالچی بھی تھا۔گو اس کا نقد وظیفہ مقرر تھا لیکن کسی مسجد کے قابو کرنے کی تلاش میں تھا۔چنانچہ ایک مسجد منتخب کر کے مغرب کے وقت وہاں جانا شروع کیا۔وہاں پر دو پٹھان طالب علم رہتے تھے جو بھائی تھے۔بڑا بھائی حدیث کے دورہ میں حضرت مولوی صاحب کی جماعت میں شریک ہوتا تھا۔وہ اس مسجد میں نماز پڑھاتا تھا۔پٹھانوں میں دستور ہے کہ اگر کوئی مولوی بطور مہمان آئے تو اسے امام بناتے ہیں۔چنانچہ مولوی عبداللہ امام بنتے رہے اور ان کی خوش الحانی کی وجہ سے اہل محلہ نے انہیں پٹھان طالب علم کی بجائے رکھ لیا۔ایک دن وہ مدرسہ کو آ رہے تھے کہ اس پٹھان نے گلے سے پکڑ کر زمین پر دے پڑٹکا اور اس زور سے گلا دبایا کہ قریب تھا کہ اس کی جان نکل جاتی مگر بازار کے لوگوں نے مشکل سے چھڑایا۔اس طرح بعض اور پنجابی طالب علموں کو بھی اس قسم کی تکلیفیں پہنچنے لگیں۔اس پر حضرت مولوی صاحب نے پنجابیوں کو جمع کر کے ایک انجمن بنائی اور اس کا بڑا کام یہ رکھا کہ جب تک نو وارد پنجابی طلباء کے گزراہ کی کوئی صورت نہ ہو جائے اس وقت تک ان کے قیام وطعام کا انتظام کیا جائے اور اگر گذراہ کا انتظام نہ ہو سکے تو انہیں کسی دوسرے مدرسہ میں پہنچا دیا جائے۔دوم یہ کہ وہاں رہنے والے پنجابی طلباء کی ایسے طور پر نگرانی کی جائے کہ ان سے کوئی ایسی حرکت صادر نہ ہو جو فساد کا موجب بن جائے۔چنانچہ اس انجمن میں آپ کو اور مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری کو بہت سے کام کرنے پڑے پھر ایک اور انجمن بنی جس کے محرک مولوی ثناء اللہ صاحب تھے۔اس انجمن کا کام یہ تھا کہ جمعرات کو تو حید اور عمل بالحدیث کے متعلق تقریریں کی جائیں۔پہلے دن میں اس انجمن میں صرف تین چار آدمی شامل ہوئے لیکن دو تین جمعراتوں کے بعد چھپیں تمہیں لوگ جمع ہوئے۔اس سے استادوں کو یہ ڈر پیدا ہوا کہ اس طرح گروہ اہلحدیث ترقی کر جائے گا ابھی سے روک تھام چاہئے۔چنانچہ ایک رقابت کے جھگڑے کی بناء پر مولوی ثناء اللہ صاحب کو مدرسہ سے خارج کر دیا گیا اور وہ کانپور چلے گئے لیکن دوسرے ممبران انجمن سے کوئی تعرض نہ کیا گیا۔سالانہ امتحان سالانہ امتحان کے قریب طالب علم کتابیں پڑھنے لگے لیکن آپ کو وقت نہ ہونے کی وجہ سے بہت مشکل در پیش ہوئی۔اس کا اثر آپ کی طبیعت پر یہ ہوا کہ امتحان سے پہلے ہفتہ میں نیند اور زبان کا ذائقہ دونوں مفقود ہو گئے۔مرچ جیسی چیز کا زبان پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا اور دماغ بے کار ہوتا جاتا تھا۔اس کا سب سے بڑا سبب یہ تھا کہ جب سے آپ امتحان دینے لگے تھے فیل ہونا تو کجا آپ ہمیشہ اول رہتے تھے۔لاہور میں سالانہ امتحان کے ممتحن مولوی عبداللہ ٹونکی ہوتے تھے۔انہوں نے حمد اللہ کا ایک حاشیہ لکھا تھا۔جس میں حمد اللہ کی چوٹی کی حمد مشکل بحث وجود رابطہ کا ایک نیا حل لکھا تھا۔اتفاقاً آپ نے اس حل کے متعلق مولوی عبداللہ صاحب سے