اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 450 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 450

۴۵۵ صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں: بقیہ حاشیہ: - کرے گی کہ محض ایک آدھ مذہبی ہفتہ وار اخبار چلانے والا جو ایک فرقہ کا اخبار ہے اور چند کتب فروخت کرتا ہے اور ساتھ ہی اس قدر عظیم اخراجات خیرات وغیرہ پر کرنے کا ادعا ہے کیا ایسی صورت میں اور ایسے اخراجات کے بعد جائز رنگ میں وہ حلال وجائز طریق سے لاکھوں روپے کی جائیداد بنا سکتے تھے یقیناً نہیں ! ہرگز نہیں !! بعد حصول علم کسی اور ذریعہ سے کسب معاش نہیں کیا اور حصول اموال کا ذریعہ جس سے چھاپہ خانہ وغیرہ لگانے کی توفیق پائی۔وعظ وامامت وغیرہ ہی تھا۔سو اس کی بدولت ساری دولت آئی جو وعظ وامامت نیک نیتی سے نہ کرے حتی کہ اس کے ہم فرقہ عابد و عالم لوگ اس پر کفر زندقہ کا فتویٰ لگائیں تو یقیناً اس کا وعظ وامامت کا کام در بدر گدائی کے مشابہ ہے جس میں نہ حسن نیت ہے نہ عمل صالح بلکہ یہ عمل قبرالٹی کا موجب ہے اور یقیناً اس کی کمائی کسب حرام ہے۔یہ بات قطع غلط ہے کہ مولوی صاحب نے تقسیم ملک کے وقت مکان چھوڑتے وقت گویا بہت صبر دکھایا اور کسی چیز کو نگاہ حسرت آمیز سے نہیں دیکھا۔زیورات وغیرہ وہیں چھوڑ دئے یہ مبالغہ ہی نہیں کذب بیانی کی عجیب مثال ہے۔مجھے اخویم شیخ ارشد علی صاحب ایڈووکیٹ مقیم سیالکوٹ نے سنایا کہ ایک عام مجلس میں خواجہ فیروز الدین صاحب بٹ ایڈووکیٹ سیالکوٹ نے ( جو مشہور لیڈ ر حسام الدین صاحب کے اقارب میں سے تھے ) بتایا کہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے محلہ کا باشندہ تھا۔جب فرقہ وارانہ فساد ۱۹۴۷ء میں وہاں بہت تیز ہو گیا تو مولوی صاحب میرے پاس ایک گھڑی گھر کے زیورات کی مجھے یہ کہہ کر دے گئے کہ آپ کا گھر زیادہ محفوظ ہے۔آپ پاکستان لے جائیں لیکن ہمارا گھر بھی محفوظ نہ رہا اوران کے زیورات اور ہما را قیمتی سامان سب لٹ گیا۔(۱۴) ذئب (صفحہ ۳۹، ۷۸ ) الذئب يعوى (صفحہ ۴۔وہ چھینیں مارنے والا بھیڑیا ہے) ثبوت حضرت اقدس نے حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب کو ان کی جرات اور حمایت حق اور وکالت صداقت کے باعث غضنفر ( شیر ببر ) قرار دیا ہے لیکن ثناء اللہ کو چیخنے چلانے والا بھیڑیا۔بھیڑیے کو جنگل میں غلبہ نہیں ہوتا۔اور الـحـق يـعـلـوا و لا یعلیٰ کے مطابق ثناء اللہ مغلوب ہی تھا اور ساری عمر مغلوب رہا۔گرگ آشتی مشہور ہے کہ شدید موسم گرما میں برفانی علاقوں میں بھیڑئیے جمع ہو جاتے ہیں شکار کر نہیں سکتے۔ان میں سے جوذ را اونگھا باقی