اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 449 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 449

۴۵۴ السلام کی تحریک پر ۱۹۰۷ء میں آپ نے اپنے تئیں خدمات سلسلہ کے لئے وقف کر دیا۔چنانچہ حضرت مفتی محمد بقیہ حاشیہ: مالی حالت کے زیر عنوان سیرت نگار راقم ہے کہ مولوی صاحب کی مالی حالت وہی تھی جو ایک یتیم ومسکین کی ہوتی ہے۔سات سال کی عمر میں والد اور جلد بعد تایا اور والدہ نے وفات پائی۔لے دے کے بڑے بھائی تھے۔جو خود بمشکل گزارہ کرتے تھے اور نہ کوئی مولوی صاحب کی برادری تھی نہ کنبہ جس کی معاونت مالی پریشانیوں کا علاج کرتی۔ان کا نہ کوئی اثاثہ تھا نہ ترکہ پدری جبکہ وہ تعلیم و تعلم ، درس و تدریس اور نشر واشاعت میں مصروف ہوئے تو دولت و ثروت ان کے پاؤں چومنے لگی۔حتیٰ کہ وہ صاحب جائیداد ہو گئے۔چنانچہ کرایہ کے مکان کی بجائے آٹھ نو مکان اور کئی دکانیں انہوں نے خریدیں اور بنوائیں نقدی کی بھی کمی نہ تھی طلائی وفقر کی زیوارت کے علاوہ ہزار ہا روپے جمع تھے (صفحہ ۸۲۸۱) ثنائی پریس قائم کر کے ایک مشین لگائی پھر دوتین اور مشینوں کا اضافہ کیا اور انگریزی ٹائپ بھی منگوالیا اور مہر سازی کا کام بھی شروع کرا دیا ( صفحه ۲۸۰ ) مولوی صاحب نے اپنا مال اشاعت دین، اجراء اخبارات طباعت کتب، امداد غرباء ، محتاجين ، بیوگان، یتامی و مساکین طلباء و اسلامی ادارہ جات پر صرف کیا ( صفحه ۱۵۴٬۸۳) بہت مہمان نواز اور فیاض تھے۔اکثر دو چار دس ہیں مہمان آپ کے پاس آتے رہتے۔ایک دفعہ چارصد مدعوافراد جماعت کا تین دن قیام وطعام کا خرچ برداشت کیا۔بسا اوقات جلسوں، جلوسوں اور جماعتی اجتماعوں کے اشتہارات پوسٹر وغیرہ اپنے خرچ پر چھپوائے۔ایک دفعہ پندرہ ہزار ٹریکٹ کئی سو روپے خرچ کر کے طبع کرائے۔ایک دفعہ دوصد رو پیدا اس پر صرف کیا۔جماعت کے اکثر نادار طلبہ ان کے خرچ پر علوم دینیہ پڑھتے ، مساکین ، بیوگان اور محتاج ان کی خاص توجہ کے مورد تھے (صفحہ ۲۴۲،۲۴۱،۱۲۲،۱۱۷) سیرت نگار لکھتا ہے کہ بوقت تقسیم ملک مولوی مسلم رؤساء میں سے تھے۔لاکھوں روپے کا ان کا سامان تھا۔ہزاروں روپے نقد اور ہزار ہا روپے کے زیورات صدوقوں میں بند تھے ہزار ہا روپیہ کا کتب خانہ تھا۔پار چات کی کمی نہ تھی۔مولوی صاحب نے بوجہ شدید خطرہ مکان سے منتقل ہوتے وقت کسی چیز کو نگاہ حسرت آمیز سے بھی نہیں دیکھا نہ آپ کچھ اٹھایا نہ کسی کو اٹھانے دیا صرف پچاس روپے جیب میں تھے جب پاکستان پہنچے (صفحه ۳۹۳،۳۹۰،۳۸۹) حضرت مسیح موعود نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو در بدر گدائی کرنے والا اور مردوں کے کفن یا وعظ کے پیسوں پر گزارہ کرنے والا لکھا ہے۔اس کا سیرت نگار ان الفاظ میں تو اس کا اقرار ہرگز نہیں کر سکتا لیکن میں نے وہ قرائن پیش کر دئے ہیں جس سے اس کی دنیا طلبی اور حرص و آز کا بالبداہت اقرار ہے۔بھلا کس کی عقل باور