اصحاب احمد (جلد 5) — Page 420
۴۲۵ آپ سلسلہ کی خدمت کو اتنا بڑا اعزاز سمجھتے تھے کہ آپ اپنی اولاد اور عزیزوں کو اسی راہ پر چلتے دیکھ کر خوش ہونا چاہتے تھے جو آپ کی اس بارہ میں سنجیدگی کا ثبوت تھا۔گھر میں جب میں اکیلا ہوتا تھا آپ ہمیشہ مجھے کوئی نہ کوئی نصیحت کرتے فرمایا کرتے تھے کہ چھوٹی سی چھوٹی نیکی کو بھی کبھی نظر انداز نہ کرو۔ایک تو اس کنچنی کی نیکی کا ذکر کرتے تھے۔جس نے پیاسے کتے کو اپنی جوتی میں پانی پلایا اور خدا تعالیٰ کو اس کی یہ نیکی اتنی پسند آئی کہ اس کو تو بہ کی توفیق ملی اور وہ اصحاب الجنتہ میں سے بنی اور یہ کہ ایک شخص قلم سے لکھ رہا تھا کہ ایک پیاسی مکھی قلم کے نب پر سیاہی چوسنے کے لئے بیٹھ گئی تو اس نے لکھنے سے ہاتھ روک لیا تا کہ وہ پیاس دور کر لے چنانچہ اس کے نتیجہ میں اس کو بھی خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوگئی۔فرمایا کرتے تھے کہ آپ کے والد صاحب کو نصیحت کا خاص ڈھنگ آتا ہے اور وہ ہر پیشے اور ہر دماغ کے آدمی کو نصیحت کر سکتے تھے۔فرماتے تھے کہ بچپن میں مجھے ایک غنڈہ چوری چھپے ایک گلی میں ملا اور کہنے لگا میں تمہیں ایک نصیحت کرنا چاہتا ہوں اس پر مجھے تعجب ہوا وہ کہنے لگا کہ میں بھی ابتداء میں شریف انسان تھا۔مگر ایک دفعہ بدکاری کی پھر تو بہ کی پھر بدکاری کی پھر تو بہ کی اب یہ حالت ہے ک تو بہ کی توفیق نہیں ملتی۔میری نصیحت یہی ہے کہ اس گناہ کے قریب نہ پھینکیں۔ایک دفعہ گناہ ہو گیا تو پھر اس سے چھٹکارا مشکل ہے۔وفات سے قریب ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب کو مسجد مبارک میں ایک دوست کے سامنے یہی قصہ بیان کرنے کے بعد یہ قسم کھاتے دیکھا کہ خدا کی قسم اللہ تعالی نے مجھے ہمیشہ زنا سے محفوظ رکھا۔میں نے حضرت مولوی صاحب کے منہ سے بھی یہ نہیں سنا میں نے سلسلہ کے لئے یہ قربانی کی یادہ قربانی کی یا میں نے سلسلہ کی یہ خدمت کی یادہ خدمت کی۔سلسلہ کی طرف سے جو بھی فرض آپ کے سپر د ہوا۔وہی آپ کا سب سے بڑا اعزاز تھا اور وہی آپ کی زندگی۔حضرت مولوی صاحب جب جامعہ احمدیہ کی پرنسپل شپ سے سبکدوش ہوئے تو میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ جناب صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب آپ سے ملتے تو آپ ادب سے فورا کھڑے ہو جاتے اور محترم میاں صاحب کو دیکھ کر آپ کا چہرہ بشاشت سے کھل جاتا۔بعض دفعہ میرے ساتھ جب میں اکیلا ہوتا۔آپ لاہوری جماعت کے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر اعتراضات کے متعلق بیان فرماتے اور آپ کی آواز غیرت سے بلند ہو جاتی اور جوش سے آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور دیر تک آپ ذکر کرتے رہتے گو اس وقت میرے علم میں اتنی وسعت نہیں تھی کہ معاملہ کو سمجھتا۔مگر آپ کا حضرت اقدس کی ذات سے عشق کا مجھ پر بہت اثر پڑتا۔میں نے کبھی آپ سے وطن واپس جانے کی خواہش کا اظہار نہیں سنا۔وفات کے وقت (میرے علم میں ) کوئی پونچی جمع نہ تھی۔البتہ کچھ قرضہ تھا صرف مکان جس میں آپ رہائش رکھتے تھے۔اور ایک چھوٹا سا قطعہ زمین کا آپ کی ملکیت تھی وبس۔وفات سے قریب خاکسار