اصحاب احمد (جلد 5) — Page 419
۴۲۴ ۱۹۴۵ء میں حضرت مولوی صاحب حضور کے ہمراہ ڈلہوزی میں مقیم تھے۔آپ کو جڑی بوٹیوں کی بہت شناخت تھی۔چنانچہ آپ تلاش کر کے لاتے تھے اور کمرے میں جمع کرتے تھے اور بتلاتے تھے یہ فلاں فلاں بوٹیاں ہیں۔آپ اس عمر میں بھی بہت مستعد نظر آتے تھے۔۳۵- آپ کے نواسے اخویم کمال یوسف صاحب سابق مجاہد ڈنمارک ( نبیرہ حضرت سیٹھ ابوبکر جمال یوسف صاحب ) ربوہ خاکسار کو اپنی پیدائش کے پہلے سال سے حضرت نانا جان کی وفات تک آپ ہی کی خدمت میں جو کہ تقریباً پندرہ سال کا عرصہ ہے رہنے کا موقع ملا۔اس سارے عرصہ میں خاکسار سے آپ صرف ایک دفعہ ناراض ہوئے۔مجھ پر شفقت کا یہ حال تھا کہ میں بجائے نانا ابا کے ہمیشہ ابا جان ہی کہتا۔گھر میں کبھی شکایت ہوتی تو آپ خاکسار کے پاس اس کا ذکر کرتے گھر میں کبھی ایک دفعہ بھی کسی کی غیبت نہیں کی کبھی مالی امور میں پریشانی نہیں دیکھی نہ ہی کبھی کسی عہدے مال یا دولت کے حصول کی خواہش کا اظہار کیا۔مسجد مبارک میں امامت کو ایک خاص تعہد سے ادا کرتے۔ایک دن اپنے گھٹنے پر مجھ سے مرہم لگوائی۔( راستہ میں نماز کے لئے جاتے ہوئے گرنے پر سخت چوٹ آئی تھی) فرمانے لگے گھر یعنی اپنی نانی اماں کو نہ بتانا۔وہ مجھے نماز پر جانے سے روک دیں گی۔آپ کو اس بات کی بڑی ہی خواہش تھی کہ آپ کی اولاد میں سے اور آپ کے آبائی وطن سے کوئی شخص قادیان میں علم دین حاصل کر کے دین کی خدمت میں وقف ہو اور اس ضمن میں آپ ہر ممکن مالی اور قولی کوشش کرتے رہتے۔خاکسار نے وقف زندگی بغیر کسی سے مشورہ کرنے اور اطلاع کرنے کے کیا تھا۔جب میں آٹھویں جماعت کے امتحان میں کامیاب ہوا تو مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب جٹ ( امیر مقامی قادیان) کی طرف سے مدرسہ احمدیہ میں داخل ہونے کی تحریک ہوئی جس پر خاکسار نے بغیر کسی کے مشورہ کے لبیک کہہ دیا اس پر بعض عزیزوں نے ہمدردی کے طور پر افسردگی کا اظہار کیا کہ میں مستقبل میں گویا سلسلہ کے چندوں اور زکوۃ پر گزارہ کروں گا اور لنگر خانہ کی روٹی کھانی پڑے گی۔مگر جب حضرت مولوی صاحب کو میرے اقدام کی اطلاع ہوئی تو آپ خوشی سے باغ باغ ہو گئے اس وقت آپ کا دمکتا ہوا چہرہ اب تک مجھے یاد ہے۔اخویم مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر ہیڈ زودنویس جڑی بوٹیوں کے تعلق میں بیان میں ان کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ بھی بتلاتے ہیں کہ ان دنوں میں نے دیکھا کہ آپ کی جماعت میں مقبولیت کی وجہ سے آپ کو بکثرت رقوم منی آرڈروں کے ذریعہ وصول ہوتی تھی۔