اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 413 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 413

۴۱۸ لئے کبھی کوئی کھڑا نہیں ہوتا تھا۔پادری صاحب نے کہا کہ جواب بعد میں دیں پہلے میرے سوال کو دہرا دیں۔اگر آپ نے میرا سوال دہرا دیا تو میں سمجھ لوں گا کہ آپ جواب دے سکیں گے۔آپ نے پادری صاحب کی اس تعلی پر پہلے سوال دہرایا اور پھر جواب دیا تو پادری صاحب نے جو آپ کے سوال دہرانے پر دنگ رہ گئے تھے کہا کہ میں آپ کو استاد مانتا ہوں۔گویا حضرت مولوی صاحب کے تبحر علمی کا نہ صرف موافقین میں چرچا تھا بلکہ مخالفین بھی آپ کے علم کا لوہا مانتے تھے۔قادیان میں درجنوں مولوی فاضل تھے اور بڑے سحر بیان تھے مگر مخالفین کے نزدیک چند ایک مسلمہ اور چوٹی کے عالم تھے جن میں حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی شمار ہوتے تھے۔قادیان میں پیر شاہ چراغ صاحب ایک پیر تھے ایک دفعہ جبکہ احرار کے چند مولوی بھی قادیان میں آئے تھے یعنی مولوی عنایت اللہ صاحب شیخ عمر الدین صاحب محمد حیات صاحب عرف کھودا وغیرہ ان مولویوں کو رحمت اللہ صاحب کمہار کے خلاف شکایت پیدا ہوئی کہ گاہے گاہے وہ امامت کراتے ہیں اور قرآن شریف غلط پڑھتے ہیں۔انہوں نے پیر صاحب موصوف کے سامنے ذکر کیا اور کہا کہ رحمت اللہ کو امامت سے روک دیا جائے۔ان کا بڑا اعتراض یہ تھا کہ رحمت اللہ صاحب حروف کو مخارج سے نہیں نکال سکتے اور ان کا تلفظ بھی درست نہیں۔پیر صاحب نے کہا کہ میرے ایک استاد ہیں میں ان سے اس بارے میں پوچھوں گا اور فتویٰ لوں گا پھر کوئی کارروائی کروں گا۔چنانچہ انہوں نے حضرت مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اگر آپ ہمارے محلہ میں تشریف لے آئیں تو سارا محلہ استفادہ کرے گا ورنہ ہم دو چار آدمی رہ جائیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے فرمایا آپ احباب محلہ کو جمع کر لیں میں وہاں آ جاؤں گا۔چنانچہ پیر صاحب کی دعوت پر حضرت مولوی صاحب گلی سیداں میں تشریف لے گئے اور پیر صاحب نے نہایت اعزاز سے چار پائی پر بٹھایا باقی سب لوگ فرش پر بیٹھے تھے۔آپ نے پیر صاحب کو اپنے ساتھ بٹھایا۔رحمت اللہ صاحب کا معاملہ پیش کیا گیا۔آپ نے فرمایا رحمت اللہ ! آپ قرآن شریف پڑھیں اس نے تلاوت کی۔حضرت مولوی صاحب نے بعض سوالات کئے کہ یہ لفظ کیا ہے اور اس لفظ کو تم کیسے ادا کرتے ہو۔رحمت اللہ نے جواب دیا۔دراصل رحمت اللہ صاحب کی زبان میں کچھ سقم تھا اور اچھی طرح چلتی نہ تھی۔اس کی وجہ سے اعتراض ہوتا تھا۔راوی مرزا شریف احمد صاحب آف قادیان بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی صاحب نے رحمت اللہ صاحب کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس کی امامت میں کوئی چیز روک نہیں اور احادیث اور صحابہ کے واقعات میں سے بہت سی باتیں بیان فرما ئیں اور بطور سند پیش کیں۔جس پر سب لوگ خاموش رہے گویا یہ لوگ مخالف تھے مگر حضرت مولوی صاحب کے علم کے قائل تھے۔اس لئے حضرت مولوی صاحب کی بات کو مان لیا اور سب نے سرتسلیم خم کر دیا اور رحمت اللہ صاحب کی امامت بحال رہی۔