اصحاب احمد (جلد 5) — Page 411
لے کر آپ بھی وہاں پہنچ گئے باوجود اس کے کہ آپ بوڑھے تھے مگر جب مرکز اور جماعت کے وقار کا سوال سامنے آیا تو آپ بہادر سپاہی کی طرح میدان میں پہنچ گئے۔ہم مبلغین کے دوسرے سال میں تھے اور تفسیر کا درس جاری تھا۔مسیح علیہ السلام کے صلیب والے واقعہ کی آیت کی تفسیر آپ فرما رہے تھے اور جماعت احمدیہ کے زاویہ نگاہ سے اس کی تفصیل سمجھا رہے تھے۔میں نے اس پر اعتراض کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے لے کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ تک ہزاروں علماء گزرے ہیں اس مفہوم کی جو آپ بیان فرمارہے ہیں پہلے کسی عالم کو سمجھ نہ آئی تھی کہ اس کا اب آکر انکشاف ہوا۔اس پر آپ نے تفسیر کی کتاب الٹی کر کے میز پر رکھ دی۔نورانی چہرہ مسکرایا یہ نظر آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بالکل اسی طرح ہے جس طرح اس وقت مسکرائے اور فرمایا۔میاں ! تم نے کبھی بھیٹروں کا ریوڑ دیکھا ہے۔اگر ایک ریوڑ میں دوسو بھیڑ میں ہوں اور ان میں سے آپ ایک کو رسی پکڑ کر کودنے لگا ئیں۔اس کے بعد آپ رسی ہٹا لیں تو باوجود اس کے کہ رسی ہٹا لی گئی ہے پھر بھی باقی بھیڑریں وہاں سے کو دکود کر ہی گزریں گی۔اسی طرح علماء کا حال ہوا کہ ایک نے غلطی کی اور باقی بغیر سوچے سمجھے اس کی پیروی کرتے چلے گئے۔پھر فرمایا میاں ! تم دنیا کی کسی زبان کی کسی کتاب کی کوئی ایک مثال دو کہ جس میں ضمیر کسی ایسے فرد کی طرف راجع ہو جس کا ذکر اس عبارت میں نہ ہو۔پس جب دنیا کی کسی زبان کا بھی یہ قاعدہ نہیں تو کیا اکمل اور اتم کتاب میں ہی یہ کمزوری ہوئی تھی کہ ضمیر ایسے فرد کی طرف راجع کی جائے جس کا نہ اس عبارت میں ذکر ہے اور نہ سارے قرآن کریم میں اس موہوم فرد کا ذکر ہے کہ جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس کو مسیح علیہ السلام کی سی صورت دے دی گئی اور مسیح علیہ السلام کی جگہ انہیں سولی چڑھا دیا گیا تھا۔پس جب دنیا کی ہر زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ ضمیر ہمیشہ اس فرد کی طرف راجع ہوتی ہے جس کا اس عبارت میں ذکر ہو تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہاں ضمیر ایسے فرد کی طرف راجع سمجھی جائے جس کا وہاں کوئی نام ونشان ہی نہیں۔آپ کے خطبات میں طوالت کا پہلو ہوتا تھا مگر روحانی اور مذہبی امور کو نظام عالم کے ساتھ تشبیہ دے کر اور فطرت انسانی کی وضاحت فرما کر ہر بات کو واضح فرماتے تھے۔ایک بات اکثر بیان فرمایا کرتے تھے کہ بچہ اگر لڑکا ہوگا تو وہ مردانہ کام ہی بچپن سے شروع کر دے گا۔کبھی سپاہی کا کھیل کھیلے گا کبھی کسان کا سا کام کرے گا اور کبھی کوئی اور اسی طرح کا کام کرے گا جو مرد بڑے ہو کر کرتے ہیں۔اسی طرح بچہ اگر کوئی لڑکی ہوگی تو وہ گڑیوں سے کھیلے گی اور کبھی کھانا پکائے گی اور کبھی کوئی اور اسی طرح کا کام کرے گی جو عورتیں کرتی ہیں۔میں نے ایک لمبا عرصہ آپ کی صحبت میں گزارا اور آپ سے فیض حاصل کیا۔احمد یہ سکول میں کئی سال۔جامعہ احمدیہ میں کئی سال اور پھر آپ کے دولت کدہ پر بھی جا کر آپ سے تعلیم حاصل کی۔اتنے طویل