اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 20 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 20

کچھ سمجھتے تھے۔آپ کے ساتھی نے پہلے کسی کی بیعت نہیں کی ہوئی تھی۔اس لئے اس نے بیعت بھی کر لی۔حضرت مولوی صاحب نے خود دیوگراں کے پیر سید امیر کی بیعت وہاں جاکر کی ہوئی تھی۔سید امیر کو ٹھے والے پیر کے مرید تھے اور نقشبندی تھے اور آپ کے والد صاحب بھی انہی کے مرید تھے۔قصایہ کے ایک بزرگ کے استاد محمود مرید اور خلیفہ تھے اور کو ہاٹ کے رہنے والے تھے۔چند دن کے لئے اپنے دادا پیر حضرت جی کے مزار پر جوا ٹک کے پل کے پاس ہے جانے کا ارادہ کیا اور حضرت مولوی صاحب اور آپ کے ساتھی نے بھی سفر میں ساتھ دیا۔وہاں وہ بجائے تین دن کے دس دن رہے۔اس عرصہ میں ان کی علم توجہ کے بہت سے کمالات کے ساتھ یہ امر بھی ظاہر ہوتا رہا کہ ان کے اخلاق معیار پر پورے نہیں اترتے۔عرس کا دن قریب ہونے کی وجہ سے انہوں نے سرہند کا قصد کیا اور راستہ میں لاہور دو تین روز کے لئے ٹھہرے۔ترک صحبت غیر صالح حضرت مولوی صاحب اور آپ کا ساتھی بھی ہمراہ تھے لیکن راستہ میں اس بزرگ سے ایسی حرکات سرزد ہوئیں کہ آپ نے ان سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا۔اس لئے کہ ان کے ساتھ رہنے سے بجائے فائدہ کے نقصان کا احتمال تھا اور آپ کا ارادہ ہوا کہ اگر لاہور میں پڑھائی کا انتظام ہوا تو بہتر ورنہ پشاور واپس آجائیں گے۔اس بزرگ کی بعض تکلیف دہ باتوں میں سے مثال کے طور پر ایک یہ ہے کہ وہ انٹر کلاس کے ڈبہ کے اسٹیشن والی طرف نہیں بلکہ دوسری طرف آخری سیٹ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ڈبہ میں کل چار آدمی تھے لیکن انہوں نے اٹک سے لاہور تک کسی اور شخص کو ڈبہ میں نہیں گھنے دیا۔جہاں کوئی آنا چاہتا تو وہ دروازہ پر پہنچ کر با وجود پنجابی بولنے کے پشتو میں بے نقطہ گالیاں دینے لگتے اور گاڑی کے روانہ ہونے تک دروازہ روکے رکھتے۔ایک اسٹیشن پر ایک بوڑھا شخص جس کی طرز سے معلوم ہوتا تھا کہ اس نے کبھی گاڑی کا سفر نہیں کیا اور یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ یہ کونسی کلاس ہے۔اس کے ہاتھ میں تیسرے درجہ کی ٹکٹ تھی اور وہ ہر دروازہ پر کہتا تھا کہ مجھے بٹھا لو اتفاق سے پیر صاحب کا ملازم دروازہ کھلا چھوڑ کر کمرہ سے باہر گیا تو وہ بوڑھا دروازہ کھلا دیکھ کر آ گیا۔پیر صاحب کی توجہ دوسری طرف تھی۔اس کے دروازہ پر کھڑا ہونے سے ادھر ہو گئی اور انہوں نے جوش میں آ کر گالیاں دیتے ہوئے اسے ایسا دھکا دیا کہ وہ پلیٹ فارم پر جاپڑا۔اس نظارہ سے ہر ایک کی طبیعت پر بہت بُرا اثر ہوالیکن پیر صاحب نے پھر بھی اسے کمرہ میں داخل نہ ہونے دیا اور ایک ہندو نے اس بوڑھے مسلمان کو لے جا کر اپنے کمرہ میں بٹھایا۔جب پیر صاحب شاہ محمد غوث کے مزار پر آ کر بیٹھے تو حضرت مولوی صاحب نے ان واقعات کی وجہ سے کہا کہ اب میں آپ سے علیحدہ ہوتا ہوں اور یہاں پڑھنے کا کوئی انتظام کرنا چاہتا ہوں۔