اصحاب احمد (جلد 5) — Page 389
۳۹۴ احباب کشمیر کی رہائش کا خاطر خواہ انتظام ہوتا ہے۔جہاں وہ آسائش اور عزت سے سرمائی ایام گزارتے ہیں۔کاغان کے حکیم عبدالرحمن صاحب رضی اللہ عنہ اور استاذی المکرم مولوی عبد الرحمن صاحب حال ناظر اعلیٰ و امیر مقامی جماعت احمدیہ قادیان دوست اور شاگرد تھے۔تقدس تقویٰ و طہارت میں حضرت پیراں پیر کی روح آپ میں موجزن تھی۔جن کی آپ اولاد تھے۔احب الاعمال عند اللہ الصلواۃ 1 کے تحت آپ کی نمازیں سید ولد آدم حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان نمازوں کا عکس تھیں جن کے متعلق حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں لاتسأل عن طولهن وحسنهن كے تادم آخر آپ نے مسجد مبارک میں امام الصلوۃ کا فریضہ جس حسن و خوبی اور دلربائی سے سرانجام دیا۔جاننے والے جانتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حصول معراج کے بغیر تسکین نہیں پائیں گے۔اللہ تعالیٰ کی محبت اور اللہ والوں کی محبت کا وہ دلکش پہلو کیا ہی دلربا تھا کہ آپ جان خلافت سیدنا حضرت امیر المومنین عافاه اللہ تعالیٰ وائید کے وجود باجود پر کسی اڑتی ہوئی مکھی کا سایہ پڑنا بھی برداشت نہ کرتے تھے۔دوران مجلس عرفان آپ اپنے رومال سے اس کو فورا ہٹاتے۔خدمت وطن کے سلسلہ میں حضور امیر المومنین خلیفتہ اسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے تحت آپ نے اخیر عمر میں ایک لمبا پہاڑی سفر کیا اور مظفر آباد پہنچ کر میاں احمد یا ر صاحب وکیل کو شیخ محمد عبداللہ صاحب کے ساتھ آزادی وطن کی جد و جہد میں تعاون کرنے کا پیغام دیا۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ حضور کی طرف سے مفوضہ فرائض کی بجا آوری میں آپ ہمیشہ کامیاب رہتے۔چنانچہ اس موقع پر بھی کشمیر کے ان دوراہنماؤں میں سمجھوتہ ہو گیا۔آپ ستر سال سے متجاوز عمر میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے درسوں میں باقاعدہ شامل ہونے کے علاوہ ان کے نوٹ بھی رقم فرماتے اور آخری عمر میں انگریزی پڑھنے کا شوق بھی فرمایا۔علم وعرفان کے اس بحر عظیم کا جنہوں نے دارالعلوم دیو بند اعلیٰ شان سے پاس کرنے کے علاوہ حضرت مسیح موعود وعلی مطاعہ محمد العربی المکی المد فی الصلوۃ والسلام کے فیض و برکت سے حصہ وافر حاصل کیا ، شوق تعلم قیامت تک پیدا ہونے والے متعلمین کے لئے اسوہ حسنہ ہے۔۲۰ از اخویم مولوی شریف احمد صاحب امینی فاضل ( مبلغ مدراس) خاکسار کو استاذی المکرم حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شاگرد ہونے کا شرف دفخر حاصل ہے۔خاکسار نے اپنے عرصہ تعلیم ۱۹۳۶ء تا ۱۹۳۹ء جامعہ احمدیہ قادیان میں آپ سے منطق وفلسفہ اور تفسیر کے علوم پڑھے۔ان ایام میں حضرت مولانا صاحب موصوف جامعہ احمدیہ کے پرنسپل تھے۔جملہ