اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 388 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 388

۳۹۳ حضرت مسیح موعود نے جب عید الاضحیٰ کا خطبہ عربی زبان میں دیا تو مولوی صاحب نے بیان کیا کہ میں بھی اس عید کے خطبہ میں حاضر تھا۔حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نورالدین صاحب، حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی اور تیسرے شاید مولوی محمد احسن صاحب امروہی کو خطبہ لکھنے کے لئے مقرر فرمایا اور حضور گویا کھڑے ہو کر سامنے کسی عبارت کو پڑھتے جاتے تھے۔حضور نے لکھنے والوں کو یہ بھی فرمایا کہ اگر کوئی مشکل لفظ ہو تو ابھی مجھ سے دریافت کر لینا بعد میں شاید میں بھی نہ بتا سکوں۔آپ کی عادت تھی کہ بات ذرا لمبی بیان فرماتے جب بھی کوئی شخص کوئی سوال کرتا تو اسے خوب کھول کر نہایت تشریح سے جواب دیتے۔گویا ہر پہلو پر روشنی ڈالتے۔آپ کی بات کو جو شخص غور سے سنتا وہ بہت کچھ حاصل کر لیتا۔چنانچہ آپ خود فرماتے کہ میاں میری بات ذرا لمبی ہوتی ہے مگر جوشخص میری بات کوغور سے سنے گا اس کا اعتراض باقی نہ رہے گا۔اللہ تعالیٰ آپ کے درجات بلند کرے اور ہمیں آپ کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔آمین۔۱۹ از اخویم مولوی عبدالواحد صاحب فاضل مبلغ پیشنر ( ساکن موضع آسنور سابق امیر صوبائی کشمیر ) مرفوع الی اللہ حضرت سید محمد سرور شاہ صاحب ہمارے محبوب استاد تھے۔مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ قادیان کے علاوہ پرائیویٹ تعلیم میں بھی ہم نے آپ سے استفادہ کیا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد اور تمام متعلقین کا حافظ و ناصر ہو اور انہیں حسنات دارین سے نوازے۔حضرت مولوی صاحب مجسم شفقت و رحمت اور صاحب وجاہت تھے۔خاکسار ۱۹۲۰ء میں بحالت یتیمی قادیان پہنچا تھا۔میرے بڑے بھائی صاحب مکرم مولوی عبدالجبار صاحب مرحوم نے آپ کا ذکر خیر کیا تھا۔حضرت مولوی صاحب کی سفارش سے خاکسار کا تعلیمی وظیفہ مقرر ہوا۔آپ نہایت محنت اور جانفشانی سے اپنے جملہ فرائض منصبی ادا کرنے میں پہلوان حضرت رب جلیل تھے۔بدن کے بڑے مضبوط قومی اور امین تھے۔حُبّ الوطن من الايمان ۵ کے مطابق وطنی محبت سے سرشار بھی تھے۔جلسہ سالانہ کے موقع پر ضلع ہزارہ مظفر آباد وغیرہ کے مہمان آپ کے حصہ مکان میں فروکش ہوتے۔کشمیر کے احباب اور عزیز طلبہ سے آپ کا رحمت و شفقت کا سلوک تھا۔آپ کی خواہش ہوتی تھی کہ کشمیر سے آئے ہوئے مزدور پیشہ لوگ بھی عمدہ حالت میں رہیں۔آپ کی اس خواہش کو اللہ تعالیٰ نے یوں پورا کیا ہے کہ اب کچھ عرصہ سے آپ کے مکان کے ہی متصل سالانہ جلسہ گاہ کے کمروں میں