اصحاب احمد (جلد 5) — Page 353
۳۵۸ صاحب“ کہہ کر بلایا۔میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایا مبارک ہو۔میں پھولا نہیں سما تا تھا کہ آپ میرے نام سے واقف ہیں۔مجھے اپنی مجبوریوں کی وجہ سے ٹریننگ کالج میں داخلہ لینا تھا۔حضرت ماسٹر محمد طفیل صاحب نے مجھے درخواست تحریر کر دی۔جس میں حضرت مولوی صاحب نے بحیثیت پرنسپل جامعہ احمد یہ میرے متعلق اپنے ریمارکس تحریر کرنے تھے۔جمعہ کی نماز کے بعد میں نے درخواست آپ کے سامنے کر دی۔آپ کی بزرگی کے باعث مجھے یا رائے گفتگو نہ تھا۔آپ نے اسے پڑھا اور اس پر ریمارکس تحریر فرمائے جنہیں پڑھ کر حضرت ماسٹر صاحب بہت خوش ہوئے۔حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی نماز کے بعد مسجد میں تشریف فرما ہوتے تو مولوی صاحب اپنے رومال سے حضور کے جسم سے مکھیاں ہٹاتے رہتے۔اگر حضور کسی کے استقبال کے لئے قادیان سے باہر تشریف لے جاتے تو مولوی صاحب با وجود ضعیف العمری کے رفاقت کرتے اور قدم کے چوتھائی کے قریب حضور سے آگے چلتے اور اپنا رخ حضور کی طرف رکھتے۔۔جس سے حضور کی تکریم مقصود ہوتی گویا آپ حضور کے عاشق صادق تھے اور آپ کی مفارقت پسند نہ تھی۔آپ داڑھی کو با قاعدگی سے حنا لگاتے۔آپ ہمیشہ چوغا زیب تن کر کے اور ہاتھ میں سونٹی لے کر باہر تشریف لاتے۔میں نے آپ کو کبھی بیمار ہوتے نہیں دیکھا۔ایک جید عالم ہونے اور آسودہ حال خاندان سے تعلق رکھنے کے باوجود آپ پاکیزگی، انکسار اور سادگی کا مجسمہ تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دامن سے وابستہ ہوکر اور حضور کی غلامی کا جو اگر دن میں ڈال کر آپ نے دنیا طلبی کی خواہش ہی دل سے نکال دی۔مدرسہ احمدیہ کی ملازمت کا سارا عرصہ ایک مختصر سے مکان میں گزار دیا۔جو دراصل ایک چپڑاسی کے بھی لائق نہ تھا۔جب حضور کے در کی غلامی کی خاطر دنیا بھر کو چھوڑا تو دنیوی چیزوں کی راحت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔آپ ہمیشہ نماز با جماعت سے کافی وقت پہلے مسجد مبارک میں آتے اور صف اول میں بیٹھتے۔آپ اپنا وقت یوں گزار تے گویا تعلیم و تدریس اور نمازوں کے سوا آپ کو اور کوئی کام نہیں۔آپ کو اپنے آرام کے لئے تعلیمی درس گاہ سے رخصت لیتے نہیں دیکھا۔ہمیشہ یوں معلوم ہوتا کہ آپ اس عالم رنگ بو میں ہوتے ہوئے دنیا و مافیہا سے ادنی وابستگی بھی نہیں رکھتے۔بلکہ کسی کی شیریں یاد میں آپ زندگی گزارتے ہیں۔اور آپ پر عالم بے خودی اور ر بودگی طاری ہے۔اللهم اغفر له واكرم مثواه _ آئین۔