اصحاب احمد (جلد 5) — Page 323
۳۲۷ والے انسان جو مذہب کی بہترین خدمت کر سکتے ہیں۔مذہب کی بنیادوں کو مضبوط کر سکتے ہیں۔انبیاء کو عطا کرتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک بہادری کا سوال ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالفین میں بھی بڑے بڑے تجربہ کار جرنیل تھے لیکن مسلمان بہادروں کے سامنے آ کر وہ رہ جاتے تھے۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ دونوں چیزیں ہی ضروری ہیں یعنی ذاتی جوہر کے ساتھ جب آسمانی روشنی مل جاتی ہے تو وہ انسان بہت بڑے کام کرنے لگ جاتا ہے وہی ذاتی قابلیت رکھنے والے انسان جو کفار میں تھے تو وہ صرف قبائلی سردار آتے تھے۔لیکن جب وہ مسلمان ہو گئے تو انہوں نے بین الاقوامی شہرت حاصل کر لی۔یہ بین الاقوامی شہرت حاصل کرنے والے انسان مثلاً عمر و بن عاص یا خالد بن ولید بچپن میں ہی اسلام نہیں لائے تھے بلکہ وہ ایسی عمر میں ایمان لائے جب کہ وہ کفار کی طرف سے کئی لڑائیوں میں شامل ہو چکے تھے۔ان لڑائیوں کے اوقات میں بھی ان میں اچھے جو ہر موجود تھے اور وہ اس وقت بھی بہادر اور دلیر تھے لیکن ہر دفعہ مسلمانوں کے سامنے پیٹھ پھیر کر بھاگنے پر مجبور ہوتے تھے مگر جب وہ مسلمان لشکر میں آگئے تو انہوں نے ایسے کار ہائے نمایاں کئے کہ یورپ اور امریکہ میں ان کی سوانح حیات کے متعلق کتابیں لکھی گئیں۔جب تک وہ قبائلی سرداروں کے ساتھ تھے وہ ایک قبائلی سردار تھے۔اسلام لانے سے پہلے عمرو بن عاص اور خالد بن ولید کی حیثیت ایک قبائلی سردار کی سی تھی لیکن جب یہ لوگ اسلامی لشکر میں شامل ہوئے تو انہوں نے ایسی شہرت اور عظمت حاصل کی کہ آسمان کے ستاروں سے بھی آگے نکل گئے۔وہ صرف معلومہ دنیا کے کناروں تک ہی مشہور نہیں ہوئے بلکہ ان کی شہرت دنیا کی زندگی اور وقت کے ساتھ ساتھ پھیلتی چلی گئی اور آج تک ان کو نہایت عزت کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔پس افراد سے قو میں بنتی ہیں اور قوموں سے افراد بنتے ہیں۔اعلیٰ دماغوں کے مالک ، ذہین اور نیک انسان قوموں کو بہت زیادہ فائدہ پہنچاتے ہیں اور اعلیٰ اور نیک مقاصدا چھے اور ہوشیار لوگوں کے ہاتھ آ کر بہت زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ بھی اللہ تعالیٰ نے یہی سلوک کیا کہ آپ کے دعوی کے ابتداء میں ہی بعض ایسے افراد آپ پر ایمان لے آئے جو کہ ذاتی جوہر کے لحاظ سے بہترین خدمات سرانجام دینے والے تھے اور اس کام میں آپ کی مدد کرنے والے تھے۔جو اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد کیا تھا اور پھر ہم دیکھتے ہیں کہ واقعہ میں وہ لوگ بہترین مددگار اور معاون ثابت ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی نبوت سے پہلے ہی حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب کی توجہ آپ کی طرف پھری اور آپ نے نقل مطابق اصل۔یوں ہونا چاہئے۔” نظر آتے تھے۔“