اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 278 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 278

۲۸۲ کا مقام ہمیشہ قادیان رہے۔یہ درست نہیں کہ وہ انجمن اب انجمن نہیں رہی ، نہ حضرت اقدس نے یہ لکھا ہے کہ جب آپ کے نزدیک اس انجمن میں کوئی نقص یا اعتراض وارد ہو تو یہ مقبرہ مقبرہ بہشتی نہ رہے گا۔اور اس کے مقابل اور مقبرہ بہشتی تجویز کر لو۔مقبرہ بہشتی نے حق و باطل میں امتیاز کر دیا ہے۔غیر مبایعین کے وصایا کا سلسلہ اس کے لئے بند ہونا اور اس کی نسبت وصایا کو روکنا اور سابقہ وصایا کو ان لوگوں کا فسخ کرنا اور بالمقابل ایک اور بہشتی مقبرہ تجویز کرنا یہ سب امور غیر مبایعین کے باطل پر ہونے کے بین دلائل ہیں۔حضور نے صدر انجمن کو خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین قرار دیا اور اسی کے فیصلہ کو غیر مبایعین رد کر رہے ہیں۔کیونکہ اسی انجمن نے فیصلہ کیا تھا کہ حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ ہیں اور نئے اور پرانے احمدی ان کی بیعت کریں اور آئندہ آپ کا حکم ہمارے لئے ایسا ہو جیسا کہ حضرت مسیح موعود کا تھا اور صدرانجمن نے ایسا ہی فیصلہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کی خلافت کے متعلق کیا جو غیر مبایعین نے قبول نہ کیا اور ایک انجمن بالمقابل قائم کر لی۔پہلی انجمن کے ٹوٹ جانے کی جو وجہ بتائی جاتی ہے وہ غلط ہے۔حضرت خلیفہ اول نے فیصلہ کیا کہ انجمن خلیفہ کے ماتحت ہے اور اس کے خلاف کہنے والوں سے دوبارہ بیعت لی۔خدا کے رسول کی تخت گاہ سے بکلی منقطع ہونے والے حق پر نہیں ہو سکتے۔قادیان کے چندہ کی پانچ مدات حضرت اقدس نے مقرر فرمائیں۔جنہوں نے ان مدات میں چندہ دینا بند کر دیا۔بلکہ دوسروں کو بھی روکا۔وہ بھی حق پر نہیں ہو سکتے۔ایک نبی یا مامور کے سارے اہلبیت اس کی وفات کے بعد گمراہ نہیں ہو سکتے۔تاریخ وصحف انبیاء اس پر شاہد ہیں۔پھر وہ نبی اور مہدی اور مسیح جس کے سانس سے کفار قتل ہوں۔جو لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلَّه کا مصداق ہو جو شیطان کے ساتھ آخری جنگ کرنے اور اس کے گروہ پر آخری اور دائمی غلبہ پانیوالا ہو اس کے سارے اہلبیت جس پر وہ آخر تک راضی رہا۔اس کے رخصت ہوتے ہی بلا استثناء گمراہ ہو جا ئیں یہ ناممکن ہے۔حضور ” آئینہ کمالات اسلام میں تحریر فرماتے ہیں کہ انبیاء و اولیاء کی مبشر اولا دضرور صالح اور حق پر ہوتی ہے (ص ۵۷۸) اور حضرت اقدس کی ساری اولا د مبشر تھی۔خلیفہ عثمانی مصلح موعود ہیں۔حضرت اقدس کے بیٹے اگر ضال اور مضل ہیں تو کیا حضرت اقدس کی ساری دعائیں اکارت گئیں ؟ ہر نبی کی ایک دعا ضر ور مستجاب ہوتی ہے اور وہ حضور نے اپنی اولاد کے حق میں کی اور اس دعا کے قبول ہونے کا حضور کو الہام ہوا۔انسی معک وَ مَعَ اَهْلِكَ کی رو سے اللہ تعالیٰ کی معیت بھی حاصل ہے۔حضور کے الہام أُخْرِجَ مِنْهُ اليَزِيدِ يُونَ کی رو سے حضور اقدس کی اہلبیت کی یزیدیوں کی طرح مخالفت کرنے والے ضرور نا حق پر ہیں۔ا تذکرہ صفحہ ۱۴۱۔جدید ایڈیشن