اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 277 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 277

۲۸۱ 66 استحکام ہوتا ہے۔۲۶۴ حضور نے فرمایا ہے کہ ہر نبی اور مشائخ کی وفات پر ایسا زلزلہ آتا ہے اور ہر ایک خلیفہ مشائخ میں شامل ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر بھی جماعت میں بہت بڑا زلزلہ آیا۔مصری صاحب نے عبارت کو نقل کرتے ہوئے ” ومشائخ کو حذف کر کے دجل اور بد دیانتی سے کام لیا۔مصری صاحب نے حضرت مسیح موعود کی تصنیف ”سر الخلافہ " (ص ۱۸) سے یہ استشہاد کیا ہے کہ صرف پہلا خلیفہ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے حضرت مولوی صاحب اس کی تردید میں فرماتے ہیں کہ یہ کتاب شیعہ خیالات کی تردید میں تصنیف ہوئی ہے شیعوں کا یہ ادعا ہے کہ پہلے تین خلفاء خلفاء نہ تھے۔صرف حضرت علیؓ خلیفہ تھے۔حضور اس ادعا کی تردید فرما رہے ہیں اور اس کتاب کے سیاق وسباق سے مولوی صاحب نے بتایا ہے کہ مصری صاحب کا استشہاد صریحاً غلط۔مخالف قرآن اور مخالف عقیدہ حضرت اقدس ہے۔اسی طرح عزل خلفاء کے خیالات کی بھی آپ نے دھجیاں خوب بکھیری ہیں۔صحابہ سے مروی اقوال کا جائزہ لیا ہے اور جو غلط استنباط کئے گئے ہیں قوی قرائن و دلائل کے ساتھ ان کا بطلان ظاہر کیا ہے۔(۹) "الفارق - عالم حقائق آگاہ" مولانا صاحب ادام اللہ مجدہ کی طرف سے غیر مبایعین کی تردید میں ایک نہایت مبسوط مضمون اس نام سے اکسٹھ صفحات میں تالیف ہوا ہے۔جس میں آپ بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلعم خاتم کمالات نبوت ہیں۔انبیاء کی معرفت ابتداء میں اتنی ہی ہوتی ہے۔جتنی باپ کو اپنے بیٹے کی۔اپنے ایمان کو شکوک سے زائل نہ کرنا چاہئے ورنہ شبہات کا سلسلہ نا متناہی ہے اور فیصلہ کے لئے قرائن قویہ کافی ہوتے ہیں۔چنانچہ یہاں یہ قرائن ہیں کہ الہام اِنِّی مَعَكَ وَ مَعَ اَهْلِک اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود اور حضور کے اہلبیت کے ساتھ ہے اور اھلک سے مراد یقیناً حضور کے اہلبیت ہیں۔پس حق پر وہی ہے جو حضور کے اہلبیت کے ساتھ ہے۔الوصیة کی رو سے مقبرہ بہشتی مومن و منافق میں فرق کرنے والا ہے۔غیر مبایعین نے حضور کے قائم کردہ مقبرہ بہشتی سے قطع تعلق کیا بلکہ اس کے قرب و جوار میں زمین خرید کر اسے بہشتی مقبرہ قرار دے کر اصل بہشتی مقبرہ سے تمسخر کیا۔حضور نے یہ کہیں قرار نہیں دیا کہ مقبرہ بہشتی کی قرب وجوار کی سب اراضی بہشتی ہوگئی ہیں اور خواہ کوئی گروہ یا شخص میرے مقررہ بہشتی مقبرہ کی متصلہ اراضی کو مقبرہ بنائے گا تو وہ بھی بہشتی مقبرہ بن جائے گا۔البتہ حضور نے اس اضافہ کو بے شک بہشتی مقبرہ قرار دیا ہے جو اضافہ وہ انجمن کرے جسے خدا کے مسیح نے خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کی جانشین قرار دیا اور جس کے لئے یہ ضروری قرار دیا کہ اس تذکرہ صفحہ ۳۵۷۔جدید ایڈیشن