اصحاب احمد (جلد 5) — Page 162
۱۶۶ بہت ذلیل کیا۔حضرت مولوی صاحب کی سلسلہ جنبانی سے ہماری ہمشیرہ کا رشتہ میر جی سید سرور شاہ صاحب دا توی سے غالبا ۱۹۵۷ بکرمی میں ہو گیا۔سید صاحب کی ہمشیرہ حضرت مولوی صاحب کی اہلیہ اول تھیں ہیں سید مبارک احمد صاحب سرور بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۳۰ء کے بعد سید صاحب نے وفات پائی۔حضرت مولوی صاحب کے والد ماجد میر جی سید سرور شاہ صاحب کو لے کر قادیان آئے اور بیعت کی چار راجہ غلام محمد خان صاحب اور اہلیہ دوم مولوی صاحب کے بیانات سے مزید یہ مرقوم ہے کہ سید صاحب کی مرحومہ بیوی سید حیات علی شاہ صاحب دا توی کی ہمشیرہ تھی۔ان کے بطن سے ان کا ایک ہی بیٹا سید محمد ایوب شاہ تھا۔جو پندرہ سولہ سال کی عمر میں وفات پا گیا (خاکسار راقم کو بھی یاد ہے کہ وہ قادیان میں تعلیم پاتا تھا ) ہمشیرہ راجہ غلام محمد خان صاحب کے بطن سے ذیل کی اولاد ہے جو پاکستان ہی میں ہے: (۱) سید عبدالعزیز صاحب ڈی۔ایف۔اوضلع ہزارہ (۲) حکیم سید عبدالمجید صاحب (۳) مبارکہ بیگم مرحومه درویش صفت تھیں قرآن مجید با ترجمہ پڑھی تھیں۔دوسال قبل وفات پائی۔علالت کے باعث شادی نہیں ہوئی۔(۴) رضیہ بیگم (اہلیہ سید محمد امین گیلانی۔دیکھئے شجرہ نسب ) (۵) سید عبدالرشید صاحب سب حج۔( آپ کی طبیعت میں سادگی تھی۔( بیان سید مبارک احمد سردار )) بعض حوالے ذیل میں درج کئے جاتے ہیں :- (الف) بدر ۰۶-۵-۱۰ میں سید سرور شاہ صاحب کی علالت پر دعا کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ آپ دین کی تائید ، نصرت اور خدمت کے لئے بڑے مستعد اور کام کے آدمی ہیں۔(ص۹) (ب) ترجمۃ القرآن کے خریداروں میں نام۔۳۲ (ج) ریویو آف ریلیجنز (اردو) کے لئے خریدار مہیا کرنے والوں میں نام۔۳۳ (د) اعانت بدر کا وعدہ۔۳۴ (ھ) اعانت ریویوار دو پانچ روپے چودہ آنے۔۳۵ (1) چنده تمیر مدرسہ تعلیم الاسلام کی فراہمی کے لئے جن مخلصین کو توجہ دلائی گئی ان میں آپ کا نام۔۳۶ (ز) علاقہ ہزارہ میں تبلیغی و تعلیمی اغراض کے لئے ایک بورڈ چھ افراد پر مشتمل مقرر کیا گیا تھا جس کے ممبر ” میر جی سرور شاہ صاحب سکنہ دانہ اور حضرت مولوی محمد سرور شاہ صاحب کے داماد عبدالرحیم خان صاحب سکنہ حصاری بھی تھے۔۳۷