اصحاب احمد (جلد 5) — Page 158
۱۶۲ اور جب حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کشمیر تشریف لے جاتے تو وہاں بھی ملاقات کے لئے آتے بمقام لدرون فوت ہوئے اور وہاں ان کی قبر معروف ہے۔۲۰ مولوی صاحب سے تین سال بڑے تھے۔بعمر اسی سال وفات پائی ہے آپ تحریر فرماتے ہیں :- ”میرے بڑے بھائی سید محمد صادق شاہ صاحب اپنے وطن کشمیر میں وفات پاگئے ہیں۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔میرے قادیان آنے کے تھوڑی مدت بعد مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کشمیر بھیجا تو میں ان بھائی صاحب مرحوم سے ملنے گیا۔چونکہ ہمارا خاندان پیروں کا خاندان ہے اس لئے میں نے اپنے خاندان میں بالواسطہ ماخوذ از مکتوب محتر مہ اہلیہ صاحب حضرت مولوی صاحب خاکسار کے نام۔موصوفہ ان کو صحابی لکھتی ہیں۔کیونکہ حضور کے عہد مبارک میں بیعت کرنے والوں کو بدوں زیارت بھی بعض افراد صحابی سمجھ لیتے ہیں۔حضرت مولوی صاحب نے خاکسار کے استفسار پر بالوضاحت بتا دیا تھا کہ بھائیوں میں سے کس کس نے حضور کی بیعت کے علاوہ زیارت بھی کی تھی۔سید محمد صادق شاہ صاحب نے زیارت نہیں کر پائی تھی۔ان کی بیعت کے الحکم و بدر کے اندراجات یوں ہیں :- (الف) ”سید محمد صادق صاحب نمبر دار لدره ون ریاست کشمیر ۲۱ (ب) "محمد صادق شاہ صاحب نمبر دار۔لدره ون حال وارد گھنڈی تحصیل و ضلع مظفر آبا دریاست کشمیر ۲۲ (ج) سید صادق صاحب ولد محمد حسن شاہ صاحب ساکن لدرہ ون ڈاکخانہ ہندواڑہ علاقہ کشمیر تر مجھی پور ۲۳ پہلی بار تو بیعت اس وقت شائع ہوئی جب کہ حضرت مولوی صاحب کے ذریعہ وہ احمدی ہوئے۔چونکہ وہ قادیان حضور کے زمانہ میں نہیں آئے اس لئے یہ امر تو خارج از امکان ہے کہ دستی بیعت کی وجہ سے سہؤا نیا اندراج ہوتا رہا۔اور وجوہات ہوں گی۔مثلاً بیعت کے لئے اخبارات کو اطلاع دینے والے صاحب نے سمجھا پہلے اطلاع نہیں دی۔دوبارہ الحکم کو خط سے کوائف اخذ کر کے بھجوا دئیے۔کسی وقت بدر کو بھجوا دئیے۔جو سہؤا پڑے رہے اور سالہا سال کے بعد درج ہوئے۔اسے تازہ اطلاع سمجھا گیا۔اخبارات میں انہی بیعت کنندگان کے اسماء تکرار سے شائع ہونے کی کئی مثالیں ہیں۔آپ کے ایک مسئلہ دریافت کرنے کا ذکر ۲۴ رسید زر محمد صادق صاحب لدراون ۲۵ سید صادق شاہ صاحب ہندواڑہ ۲۶