اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 156 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 156

17۔ہو چکا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے آخری سفر لاہور (۲۷ را پریل ۱۹۰۸ء) سے دوروز قبل آپ نے قادیان میں دستی بیعت کی سعادت پائی اور ۱۹۱۰ء میں اپنے وطن موضع گھنڈی میں وفات پائی جہاں آپ کی قبر معروف ہے کہ آپ کی سات لڑکیاں بھی تھیں جن کے حالات مہیا نہیں ہو سکے۔اصحاب احمد جلد پنجم حصہ اوّل (ص ۷ ، ۵۷) حضرت مولوی صاحب کی اہلیہ محترمہ دوم نے بھی خاکسار سے تحریر ابیان کیا کہ مولوی صاحب کے والد صاحب نے ۱۹۱۰ء میں بعمر اسی سال وفات پائی تھی۔بقیہ حاشیہ: اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وَاتَّقُوا اللہ پہلے تو اصل منبع کی طرف توجہ دلائی کہ ایک انسان کی تم اولاد ہو۔کیا مرد اور کیا عورت یہ نہیں فرمایا کہ مرد کو ہم نے افسری کے لئے پیدا کیا ہے اور عورت کو ماتحتی کے لئے۔ایسا قرآن کریم میں کہیں نہیں آیا۔اگر کچھ آیا ہے تو دونوں کے لئے آیا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَّ رَحْمَةً كرتم تسکین اور آرام حاصل کرو۔اس طرح کہ تم بیوی سے محبت کرو اور بیوی تم سے محبت کرے۔تم بیوی پر مہربانی کرو اور بیوی تم پر مہربانی کرے۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے عورتوں کو مردوں کے تقویٰ کے لئے بطور لباس بنایا ہے۔حالانکہ صرف عورتیں مردوں کے لئے بطور لباس نہیں بنائی گئیں بلکہ مرد بھی عورتوں کے لئے بطور لباس بنائے گئے ہیں۔هُنَّ لِبَاسٌ لَّكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَّهُنَّ محض عورت مرد کے لئے لباس نہیں بلکہ مرد بھی عورت کے لئے لباس ہیں اور ذمہ داریاں دونوں کی برابر ہیں۔ہاں درجوں میں تفاوت ہے۔جیسے اشتراک اور تعاون کے قائم رکھنے کے لئے پریذیڈنٹ اور امیر کو درجہ دیا جاتا ہے۔بڑے سے بڑا اگر اس کو کچھ فائدہ ہے تو یہی کہ اس کی رائے زیادہ سنی جائے گی۔حقوق میں وہ کوئی زیادہ نفع حاصل نہیں کر سکتا۔اِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم اس مسئلہ کو نہ سمجھو گے اور تقویٰ سے کام لے کر عورتوں کے حقوق کی حفاظت نہ کرو گے تو یاد رکھو کہ تم پر بھی ایک اور ہستی نگران ہے۔آج اہلِ یورپ کہتے تو ہیں کہ ہم عورتوں کے حقوق ان کو دیتے ہیں حالانکہ انہوں نے دیئے نہیں بلکہ عورتوں نے اپنے حقوق ان سے چھینے ہیں لیکن اسلام نے نہایت خوشی کے ساتھ عورتوں کو حقوق دیئے ہیں اور اس وقت دیئے ہیں جب عورتوں نے اپنے حقوق مانگے بھی نہیں تھے۔بلکہ اسلام نے تو حقوق اس وقت دیئے ہیں جب عورتیں حق مانگنا تو درکنار اپنا حق ہی کچھ نہ بجھتی تھیں اور ان کی زندگی نوکروں اور غلاموں بلکہ جانوروں کی طرح بسر ہوتی تھی۔پس قبل اس کے کہ عورتیں اپنے حقوق مردوں سے طلب کریں۔مردوں کو چاہئے کہ ان کے حقوق ان کو دے دیں۔تا اللہ تعالیٰ کا منشاء جھگڑوں اور فسادوں کے ذریعہ پورا نہ ہو بلکہ اس کے حکم کے ماتحت ہم اس کے منشاء کو پورا کرنے والے نہیں کہ اس میں اسلام کی بھی عزت ہے۔‘11