اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 92 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 92

۹۲ عالم الغیب ماننا چاہیئے۔جس نے تمام واقعات کی پہلے سے خبر دی۔غرض یہ ایک عظیم الشان نشان ہے اور نہایت سہل طریق فیصلہ کا۔یادر ہے کہ یہ تمام مدت قصیدہ پر ہی خرچ نہیں ہوئی بلکہ اس اردو مضمون پر بھی خرچ ہوئی ہے جو اس قصیدہ کے ساتھ شامل ہے اور وہ دونوں بہئیت مجموعی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہیں اور مقابلہ کے لئے اور دس ہزار روپیہا انعام پانے کے لئے یہ شرط ضروری ہے کہ جو شخص بالمقابل لکھے وہ ساتھ ہی اس اردو کا رڈ بھی لکھے۔جس کی عبارت ہماری عبارت سے کم نہ ہو۔ظاہر ہے کہ اردو عبارت بھی اس واقعہ ء بحث کے متعلق ہے اور اس میں مولوی ثناء اللہ صاحب کے ان اعتراضات کا جواب ہے جو انہوں نے پیش کئے تھے۔اس صورت میں کون شک کر سکتا ہے کہ وہ اردو عبارت پہلے سے بنارکھی تھی۔پس میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اردو عبارت اور قصیدہ تیار ہو گئے ہیں۔میں اسی وقت تک نظیر پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں کہ جو ان تحریرات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں اور معجزہ قرار نہیں دیتے۔۔۔میں یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ وہ سب مل کر اردو مضمون کا جواب اور قصیدہ مشتملہ بر واقعات لکھ دیں۔۔۔اگر انہوں نے قصیدہ اور جواب مضمون ملحقہ قصیدہ میعاد مقررہ میں چھاپ کر شائع کر دیا تو میں بے شک جھوٹا ٹھہروں گا اگر ہیں دن میں جو دسمبر ۱۹۰۲ء کی دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی۔انہوں نے اس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔اس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہیئے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔“ ۳۲ ۱۱/ نومبر ۱۹۰۲ء کو حضور علیہ السلام نے مجلس میں فرمایا کہ:- قرآن شریف کا معجزہ ابدی معجزہ ہے۔قلت مفاہم ہے ورنہ اگر سمجھانے والے ہوں تو اب بھی یہ اسی طرح سمجھ میں آ سکتا ہے۔یہ نشان کلام کا جو خدا نے مجھے دیا ہے یہ بھی ایک شوکت اپنے ساتھ رکھتا ہے۔جب یہ معلوم ہو گا کہ اس کے ساتھ دس ہزار کا انعام ہے اور کسی نے اس کو قبول نہ کیا تو کس قدر اس کی عظمت ظاہر ہوگی۔“ وو یہ عظیم الشان معجزہ ہے کیونکہ صاف ظاہر ہے کہ اس میں ان واقعات کا تذکرہ ہے جو مباحثہ میں بمقام مد پیش آئے اور اس سے اس عرصہ کا پتہ لگ سکتا ہے۔جس میں یہ لکھا گیا۔دو باتوں میں سے ایک کا اعتراف ان کو کرنا پڑے گا یا اس کو معجزہ اور خارق عادت نشان مانیں گے یا اگر یہ کہیں کہ پہلے سے لکھ لیا تھا تو پھر مجھے عالم الغیب مانیں گے۔“ غرض اس نشان کلام کے متعلق جو اس ہفتہ میں خدا نے اپنے برگزیدہ رسول کی تائید میں ظاہر فرمایا اس کا 66