اصحاب احمد (جلد 5) — Page 91
ہو جائے گی۔“ اسے ۹۱ دس ہزار روپے کا اشتہار اور دعوت مقابلہ تصنیف اعجاز احمدی کے متعلق حضور علیہ السلام یہ بھی تحریر فرماتے ہیں کہ :- یہ اشتہا ر خدا تعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیشگوئی کو پورا کرے گا۔یعنی یہ بھی وہ نشان ہے جس کی نسبت وعدہ تھا کہ وہ اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ظہور میں آ جائے گا اور اس کے ساتھ دس ہزار روپیہ کا اشتہار اس بات کے لئے بطور گواہ کے ہے کہ اپنے دعوی کی سچائی کے لئے کس زور سے اور کس قد رصرف مال سے مخالفین کو متنبہ کیا گیا ہے۔مولوی ثناء اللہ امرتسری نے موضع مد میں باآواز بلند کہا تھا کہ ہم کتاب اعجاز مسیح کو معجزہ نہیں کہ سکتے اور میں اس طرح کی کتاب بناسکتا ہوں اور یہ بھی سچ ہے کہ اگر مخالف مقابلہ کر سکیں اور اسی مقرر مدت میں اسی طرح کی کتاب بناسکیں تو پھر وہ معجزہ کیسا ہوا۔اس صورت میں تو ہم صاف جھوٹے ہو گئے لیکن جب ہمارے دوست مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب و مولوی عبداللہ صاحب ۲ نومبر ۱۹۰۲ء کو قادیان میں پہنچ گئے اور چند روز کے بعد مجھے خیال آیا کہ اگر اعجاز مسیح کی نظیر طلب کی جائے تو جیسا کہ ہمیشہ سے یہ مخالف لوگ حیلہ بہانہ سے کام لیتے ہیں اس میں بھی کہہ دیں گے کہ ہماری دانست میں کتاب اعجاز مسیح ستر دن میں طیار نہیں ہوئی۔جیسا کہ تقریر جلسہ مہوتسو کی نسبت مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے یہ فرمایا تھا کہ یہ تقریر پہلے بنائی گئی ہے اور ایک مدت تک سوچ کر لکھی گئی ہے۔پس اگر اب بھی کہہ دیں کہ یہ اعجاز مسیح ستر دن میں نہیں بلکہ ستر مہینے میں بنائی گئی ہے تو اب یہ امر عوام کی نظر میں مشتبہ ہو جائے گا اور میں چند روز اسی فکر میں تھا کہ کیا کروں۔آخر ۲ نومبر ۱۹۰۲ء کی شام کو میرے دل میں ڈالا گیا کہ ایک قصیدہ مقام مد کے مباحثہ کے متعلق بناؤں کیونکہ بہر حال قصیدہ بنانے کا زمانہ یقینی اور قطعی ہے۔کیونکہ اس سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ ۲۹ / اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء کو بمقام مد بحث ہوئی تھی اور پھر دوسری نومبر کو ہمارے دوست قادیان پہنچے اور سے نومبر ۱۹۰۲ء کو میں ایک گواہی کے لئے منشی نصیر الدین صاحب منصف عدالت بٹالہ کی کچہری میں گیا۔شاید میں نے ایک یا دو شعر راہ میں بنائے۔مگر ۸ نومبر کو قصیدہ پوری توجہ سے شروع کیا اور پانچ دن تک قصیدہ اور اردو مضمون ختم کر لیا۔یہ امر شک و شبہ سے پاک ہو گیا کہ کتنی مدت میں قصیدہ بنایا گیا۔اس قصیدہ میں اور نیز اردو مضمون میں واقعات اس بحث کے درج ہیں جو ۲۹ ر اور ۳۰ اکتوبر ۱۹۰۲ء میں بمقام مد ہوئی تھی۔پس اگر یہ قصیدہ اور اردو مضمون اس قلیل مدت میں تیار نہیں ہوا اور پہلے اس سے بنایا گیا۔تو پھر مجھے