اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 86 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 86

۸۶ 66 لے گئے۔۲۳ ۳ - ( سیر ۲ / نومبر ۱۹۰۲ء) حضرت اقدس حسب معمول سیر کے لئے تشریف لائے اور آتے ہی پھر اس مناظرہ پر حضور نے گفتگو شروع کی جس کی کارروائی گذشتہ شب کو درج کی جاچکی ہے۔آپ نے فرمایا کہ آجکل ان مولویوں کا دستور ہے کہ چالیس پچاس جھوٹ ایک دفعہ ہی بیان کر دیتے ہیں۔اب ان کا فیصلہ تین چار منٹ میں دوسرا فریق کس طرح کرے۔پادریوں کا بھی یہی طریق ہے کہ ایک دم اعتراض کرتے چلے جاتے ہیں۔ایسے وقت میں یہ طریق اختیار کرنا چاہئے کہ ایک اعتراض چن لیوے اور اول اس پر فیصلہ کر کے آگے چلے اور دوسرا لے لیوے۔اوّل قواعد مقرر کئے جائیں۔یہ امر بھی دیکھا جاوے کہ منہاج نبوت کو مانتا ہے کہ نہیں۔اس نے بار بار عبد اللہ آتھم کی پیشگوئی کا تکرار کیا کہ وہ پوری نہ ہوئی۔اگر منہاج نبوت کا فیصلہ اوّل کر لیا جاتا تو اس طرح کا دھوکا کب دے سکتا تھا۔(اس کے بعد حضور نے بیان کیا کہ وعیدی پیشگوئیاں ٹل جاتی ہیں اور آتھم کی پیشگوئی کی تفصیل بتائی۔ناقل ) (مغرب و عشاء) حضرت اقدس نے بعد مغرب حسب دستور جلوس فرما کر مباحثہ موضع مد کے حسن و قبح پر تذکرہ کیا کہ یہ مولوی لوگ عوام کے بھڑ کانے کے واسطے عجیب عجیب حیلہ گھڑتے ہیں اور حق رسی سے ان کو کوئی کام نہیں ہوتا۔“ ( اس پر حضرت مولوی نور الدین اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنے ساتھ پیش آمدہ ایسے واقعات سنائے۔۳ رنومبر کی صبح کو سیر میں بھی حضور نے طریق بحث کے متعلق بیان فرمایا۔ناقل ) ۲۴ -۵ ظهر (۳ / نومبر ۱۹۰۲ء) ” اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے اور تھوڑی دیر مجلس کی۔مڈ کے مباحثہ کا ذکر ہوتا رہا کہ در حقیقت تو ہم نے فتح پالی ہے۔صرف اتنی بات ہے کہ وہ دیہات کے لوگ تھے ان کو ان باریک باتوں کی سمجھ نہیں آئی مجھے خوشبو آتی ہے کہ آخر کار فتح ہماری ہے۔دسمبر کے آخر تک جو نشان ظاہر ہونے والے ہیں شاید یہ بھی ان میں سے ایک عظیم الشان نشان ہو جاوے۔یہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے جیسے فرمايا و العاقبة للمتقین۔آنحضرت صلح کو بھی ۱۳ برس تک مکروہات ہی پہنچتے رہے۔پھر اس کے بعد حضرت اقدس تشریف لے گئے۔“ -4 (عصر) اس وقت حضرت اقدس تشریف لا کر پھر مباحثہ مد کے متعلق ذکر کرتے رہے۔خدا کے برگزیدوں کی بھی عجیب حالت ہوتی ہے کہ جب ایک بات کی طرف توجہ ہو جاوے تو پھر رات دن اسی کی طرف توجہ رہتی ہے گویا کہ بالکل اس میں مستغرق ہیں اور دنیا و مافیہا کی خبر نہیں۔“