اصحاب احمد (جلد 5) — Page 85
۸۵ صاحب اور عبداللہ صاحب کشمیری جو کہ موضع مد میں تبلیغ اور مشاہدہ کے لئے تشریف لے گئے تھے بخیر و عافیت واپس آئے اور حضرت اقدس سے نیاز حاصل کی اور وہاں کے جلسہ مباحثہ کی مختصر تفصیل سُنانے لگے۔حضرت اقدس نے اختصارا ان تمام باتوں کا اعادہ کیا جو کہ آپ نے سیر میں فرمائی تھیں کہ مباحثہ میں ہماری جماعت کو کیا پہلو اختیار کرنا چاہیئے اور پھر تمام کیفیت مباحثہ سننے کے لئے شام کا وقت مقرر ہوا۔نماز پڑھی گئی اور حضرت اقدس تشریف لے گئے۔“ -۲ 66 (مغرب و عشاء) ” بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس نے جلوس فرماتے ہی حکم صادر فرمایا کہ مباحثہ موضع مد کی کارروائی سُنائی جاوے۔چنانچہ عبداللہ کشمیری صاحب اُٹھ کر سُنانے لگے۔سب سے اوّل حضرت اقدس کو اس امر پر کمال افسوس ہوا کہ فریقین نے صرف ہیں ہیں منٹ اپنے اپنے دعا دی کے متعلق دلائل لکھنے کے لئے قبول کئے۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایسی صورت میں ہرگز مباحثہ قبول نہیں کرنا چاہیئے تھا۔یہ تو ایک قسم کا خون کرنا ہے۔جب ہم مدعی ہیں تو ہمیں اپنے دعاوی کے دلائل کے واسطے تفصیل کی ضرورت ہے جو وقت چاہتی ہے اور جب دلائل لکھے جاتے ہیں تو توجہ ہوتی ہے۔اس میں فیضانِ الہی ہوتا ہے۔اس کا ہم کیا وقت مقرر کر سکتے ہیں کہ کب تک ہو۔غرضیکہ حضرت اقدس نے اس بات کو بالکل نا پسند فرمایا کہ وقت میں کیوں تنگی اختیار کی گئی۔پھر عبداللہ صاحب کشمیری نے وہ تمام تحریریں پڑھ کر سنائیں۔ہماری جماعت کی طرف سے مذکورہ بالا دو اصحاب تھے اور فریق مخالف کی طرف سے مولوی ثناء اللہ صاحب تھے۔مباحثہ اس طریق سے ہوا تھا کہ مصدق فریق نے وفات مسیح، نزول مسیح اور حضرت اقدس کے مسیح موعود ہونے کے دلائل اپنے ذمہ لئے تھے۔اور مکذب فریق نے اس کی تکذیب کے دلائل اپنے ذمہ لئے تھے۔ہر ایک فریق ہر ایک امر پر بیس بیس منٹ تک لکھتا تھا اور سُنا دیتا تھا۔پھر ایک دوسرے کا دونوں جواب الجواب لکھتے تھے۔بہر حال فریق مکذب نے اس مباحثہ میں قرآن کی طرف مطلق رجوع نہ کیا اور مصدق فریق نے جو جو معیار صداقت قرآن کریم سے پیش کئے تھے ان کا اس سے کوئی جواب بن نہ آیا۔چنانچہ پریذیڈنٹ جلسہ نے اُٹھ کر اعلانیہ بیان کر دیا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب سے کوئی بن نہیں آیا۔اس کی روئداد سننے پر حضرت اقدس پھر انہی امور کا بار بار اعادہ فرماتے رہے جو کہ سیر میں مناظرہ اور مباحثہ کے متعلق فرمائے تھے تاکہ سامعین کے ذہن نشین وہ باتیں ہو جاویں (یعنی بحث کے لئے قواعد اور سوال مرتب ہوں اور کتاب اللہ مقدم رکھی جاوے۔ناقل ) پھر اس کے بعد نماز عشا ءادا کر کے حضرت اقدس تشریف واپسی کا ذکر البدر مؤرخہ ۷/نومبر ۱۹۰۲ء میں بھی ہے۔مؤلف