اصحاب احمد (جلد 4) — Page 79
29 کرا لیئے۔اور جب پھر تہہ بند باندھ کر دھونے یا دھلانے کا مرحلہ پیش آیا تو کپڑے دھوبی کو دے کر کہا کہ جمعہ کو ملیں گے تو وہ حیران ہوئے کہ مجھے اندر ہی قید کر دیا۔میں اس طرح پر حضرت کے سامنے چلا جاؤں؟ اتنے میں مفتی صاحب وہ کپڑے لے کر آئے اور کہا کہ لو یہ کپڑے پہنو۔نہیں تو حضرت صاحب سے جا کر کہتا ہوں۔وہ جانتے تھے کہ وہ جا کر کہہ دے گا۔تب مجھے کہا کہ اب اس کو مجھ پر داروغہ مقرر کر دیا۔اچھا بھائی لاؤ۔یہ سب باتیں محبت کی ایک شان لئے ہوتی تھیں۔غرض یہ واقعہ منشی صاحب کے اخلاص۔ایثار۔ادب اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کمال محبت و کمال اطاعت کی ایک شان لئے ہوئے ہے۔خدا کی رضا کے لئے انہوں نے ملازمت کے رہنے نہ رہنے کا خیال ہی نہیں کیا۔اور ادھر عجائبات قدرت کو دیکھو کہ حضرت کی توجہ نے ان کے افسر کے قلب پر ایسا اثر کیا اس لمبی غیر حاضری کی ذرہ بھی پرواہ نہ کر کے کہا تو یہی کہا کہ ان کا حکم مقدم ہے۔میں اس سلسلہ مضامین میں حضرت منشی ظفر احمد رضی اللہ عنہ کے بعض واقعات خصوصیت سے بیان کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔وبالله التوفيق ۳۹۔حضرت عرفانی صاحب آپ کے متعلق مضمون کی دوسری قسط میں رقم فرماتے ہیں: گذشتہ اشاعت میں حضرت منشی ظفر احمد صاحب کے اخلاص اور فنافی الامام کا ایک واقعہ بیان کیا ہے۔عجیب بات ہے کہ حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے بھی اپنے خطبہ جمعہ میں اس کا اظہار فرمایا۔میں نے اس مضمون کی پہلی قسط اس وقت لکھی تھی جب کہ حضور کا خطبہ جمعہ یہاں نہ پہنچا تھا۔جیسا کہ حضور نے فرمایا یہ واقعہ الحکم میں آج سے سات سال پیشتر شائع کر چکا ہوں۔اور بھی بہت سی روایات حضرت موصوف کی الحکم کو شائع کرنے کا فخر اور سعادت حاصل ہے۔میں نے بیان کیا ہے کہ حضرت منشی صاحب حضرت مسیح موعود علیہ