اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 73 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 73

۷۳ کے لئے مجھے سن کر دیا۔یہ میرے نہایت ہی محترم بزرگ بھائی حضرت منشی ظفر احمد صاحب رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر تھی۔میرے سامنے سینمائی فلم کی طرح ان کی زندگی کے مختلف دور گزرنے لگے۔اور میں ایک محویت کے عالم میں اس محترم بھائی کے کارناموں کو محبت اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا۔اور اس کی ہرادا مجھے پیاری اور دلر با معلوم ہوتی تھی۔ایک محبوب کے فدائی میں اور وہ ایک محبوب کے فدائی تھے اور اس لحاظ سے میں ان کا اور وہ میرے رقیب تھے۔مگر میں نے ہمیشہ دیکھا کہ وہ رقابت ہم دونوں کو زیادہ سے زیادہ قریب اور ایک دوسرے سے محبت میں مخمور کر رہی تھی۔رقابت کے اس فلسفہ نے مجھے بتایا کہ پاک انسان سے محبت کرنے والے دو اشخاص میں نفرت کی بجائے محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔اور جس قدر تعداد بھی ایسے محبت کرنے والوں کی بڑھتی جاتی ہے اس قدران میں باہم محبت کا جذبہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔میں محبت کے اس فلسفہ میں دور جا رہا ہوں اس لئے اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔حضرت منشی ظفر احمد کی وفات کی خبر نے جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے۔تھوڑی دیر کیلئے سن کر دیا۔اور ان کی زندگی کی فلم میرے سامنے سے گزرنے لگی۔ایک عرصہ سے میں اپنے قلم کو رکھے ہوئے ہوں۔بہت سے احباب رخصت ہو چکے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دربار کی بہت سی شمعیں بجھ گئیں۔اور بہت ہی کم اب باقی ہیں۔میری عادت تھی کہ جو نہی کسی عصر سعادت کے بھائی کی وفات کا واقعہ ہوجاتا۔میں اس پر اپنے فرض اخوت کو ادا کرتا۔مگر ایک عرصہ سے طبیعت میں ایک افسردگی پیدا ہو چکی ہے۔اور سوائے اس کے کہ ایسی خبروں پر اناللہ وانا اليه راجعون کہہ کر خاموش ہو جاؤں۔کبھی دل و دماغ میں وہ تحریک نہیں