اصحاب احمد (جلد 4) — Page 201
۲۰۱ کیا اور گاڑی کا وقت قریب تھا۔اس لئے رخصت چاہی۔آپ نے فرمایا اچھا اب آپ کو ایک ماہ کے قریب یہاں ٹھہرے ہو گیا ہے۔اب آپ گھر جائیں۔جب میں اجازت لے کر نیچے اترا تو سید حامد شاہ صاحب نے کہا کہ ایک مہینے کی خدمت کا ثواب آپ نے لیا۔گویا حضور کے نزدیک آپ مہینے سے آئے ہوئے ہیں۔اور میر حامد علی شاہ صاحب نے یہ بھی ذکر کیا کہ ایک عورت خادمہ حضور کو کھانا کھلاتی رہی۔اور اس کے اولاد نہ تھی۔اس لئے دعا کیلئے عرض کرتی رہی ایک دفعہ پھر جو اس نے دعا کے لئے دس پندرہ دن بعد عرض کی تو حضور نے فرمایا تم کہاں رہی تھیں اس نے کہا۔میں تو حضور کو دونوں وقت کھانا کھلاتی ہوں۔فرمانے لگے اچھا تم کھانا کھلانے آیا کرتی ہو۔۹۸۔حضور کے عہد مبارک میں ایک دفعہ قادیان میں زیادہ عرصہ تک نمازیں جمع ہوتی رہیں۔مولوی محمد احسن صاحب نے مولوی نورالدین صاحب کو خط لکھا کہ بہت دن نمازیں جمع کرتے ہو گئے ہیں لوگ اعتراض کریں گے۔تو ہم اس کا کیا جواب دیں گے۔حضرت مولوی صاحب نے جواب دیا کہ انہیں سے پوچھو ( یعنی حضرت صاحب سے ) مولوی انوار حسین صاحب شاہ آبادی اس خط و کتابت میں قاصد تھے۔ان سے مجھے اس کا حال معلوم ہوا۔تو میں نے حضرت صاحب سے جا کر عرض کر دی۔اس وقت تو حضور نے کچھ نہ فرمایا۔لیکن بعد عصر جب حضور معمولاً مسجد میں چھت پر تشریف فرما تھے۔تو آپ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا کہ ایسے اعتراض دل میں کیوں اٹھتے ہیں۔کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ وہ (مسیح موعود ) نماز جمع کرے گا۔ویسے تو جمع نماز کا حکم عام ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے کاموں میں اس قدر منہمک ہوگا کہ اس کو نمازیں جمع کرنی پڑیں گی۔اس وقت سید محمد احسن صاحب زار زار رور ہے تھے اور تو بہ کر رہے تھے۔