اصحاب احمد (جلد 4) — Page 12
۱۲ حضرت محمد خانصاحب کے اوصاف کریمہ معمول تھا کہ اتوار کے روز تمام دوست اپنا اپنا کھانا محمد خاں صاحب کے دفتر میں بھجوا دیتے اور خوان یغما کی طرح آپس میں بانٹ کر ا کھٹے ہو کر کھاتے۔اس سے محبت اتفاق اور یکرنگی بڑھتی۔مدتوں یہ معمول رہا۔اور خاکسار بھی بچپن میں ان ضیافتوں میں شریک ہوتا رہا ہے۔محمد خان صاحب کے فوت ہو جانے کے بعد یہ دستور قائم نہ رہ سکا۔محمد خان صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عاشق اور بہت گداز طبیعت رکھنے والے تھے۔اس والہیت کا ذکر خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ازالہ اوہام میں فرمایا ہے۔دوستوں پر محمد خان صاحب جان چھڑکتے تھے۔بڑے غیور اور بہادر انسان تھے۔والد صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ محمد خان صاحب کو میں نے دیکھا کہ ڈنڈا ہاتھ میں لئے غصے کی حالت میں میرے مکان کے آگے ٹہل رہے ہیں میں نے بڑھ کر سبب دریافت کیا۔تو پہلے تو انہوں نے ٹالنا چاہا۔لیکن میرے اصرار پر یہ بتایا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ کسی شریر نے مستورات کے متعلق نازیبا کلمے کہے ہیں۔میں اسے برداشت نہیں کر سکتا اور ایسے شریر کا قلع قمع کروں گا۔والد صاحب نے بہت انہیں سمجھا بجھا کر رخصت کیا۔محمد خان صاحب جوانی کے عالم میں ہی وفات پا گئے۔یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہی آپ کی وفات ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہاماً یہ بشارت دی کہ محمد خان صاحب کی اولاد سے نرم سلوک کیا جائے گا۔ہم نے اس بشارت کی صداقت کو نصف صدی میں وقتاً بعد وقت اور آشکارا پایا ہے۔اس کی تفصیل میں بجائے خود ایک سو صفحے کی کتاب لکھی جاسکتی ہے۔حضور کے محبوں کی عمروں میں برکت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ آپ کے محبوں کی