اصحاب احمد (جلد 4)

by Other Authors

Page 155 of 253

اصحاب احمد (جلد 4) — Page 155

۱۵۵ کہا کہ آپ تکلیف نہ کریں۔تو اس نے کہا میں نے اپنی نجات کا ذریعہ محض یہ سمجھا ہے کہ میری یہ ناچیز خدمت خدا قبول کرے۔غرض بڑے اخلاص اور محبت سے وہ کھانا کھلاتا رہا۔کھانا کھانے کے بعد حضرت صاحب سے اس نے عرض کی کہ کیا خدا میرے اس عمل کو قبول کر کے مجھے نجات دے دے گا۔حضور نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ذرہ نواز ہے۔تم خدا کو وحدہ لاشریک یقین کرو۔اور بتوں کی طرف بالکل توجہ نہ کرو اور اپنی ہدایت کے لئے خدا سے اپنی زبان میں ہی دعا مانگتے رہو۔اس نے کہا میں ضرور ایسا کروں گا۔حضور بھی میرے لئے دعا مانگتے رہیں۔پھر ہم واپس جالندھر گئے۔اور وہ ساہوکار دوسرے تیسرے دن آتا اور بڑے ادب کے ساتھ حضور کے سامنے بیٹھ جاتا۔د و ۳۴۔انہی ایام میں ایک دن ایک ضعیف العمر مسلمان غالباً وہ بیعت میں داخل تھا۔اور اس کا بیٹا نائب تحصیلدار تھا۔جو اس کے ساتھ حاضر ہوا۔باپ نے شکایت کی کہ یہ میرا بیٹا میری یا اپنی ماں کی خبر گیری نہیں کرتا اور ہم تکلیف سے گزارہ کرتے ہیں۔حضور نے مسکرا کر اس کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيماً وَّاسِيراً - اور اس میں کیا شک ہے کہ جب کوئی شخص اپنے ماں باپ اور اولاد اور بیوی کی خبر نہ لے۔تو وہ بھی اس حکم کے نیچے مساکین ( ماں باپ ) یتامی ( بچے ) اسیر ( بیوی ) میں داخل ہو جاتے ہیں۔تم خدا تعالیٰ کا یہ حکم مان کر ہی آئندہ خدمت کرو۔تمہیں ثواب بھی ہوگا اور ان کی خبر گیری بھی ہو جائے گی۔اس نے عہد کیا کہ آج سے میں اپنی کل تنخواہ ان کو بھیج دیا کروں گا۔یہ خود مجھے میرا خرچ جو چاہیں بھیج دیا کریں۔پھر معلوم ہوا کہ وہ ایسا ہی کرتا رہا۔۴۸ ۳۵۔دوران قیام جالندھر میں ایک شخص جو مولوی کہلاتا تھا۔حضور سے