اصحاب احمد (جلد 4) — Page 154
۱۵۴ آتھم کے مکان پر گیا۔جا کر بیٹھا تھا کہ آٹھم نے مجھ سے کہا کہ آپ کہاں کے رہنے والے ہیں۔میں نے کہا قصبہ بڈھانہ ضلع مظفر نگر۔اس نے کہا وہاں کے منشی عبدالواحد صاحب منصف ایک میرے دوست تھے۔میں نے کہا وہ میرے چچا تھے۔پھر کسی جگہ کا آتھم نے ذکر کیا کہ میں وہاں ڈپٹی تھا۔اور منشی عبد الواحد بھی وہاں منصف یا تحصیلدار تھے۔اور میرا ان کا بڑا تعلق تھا۔اور وہ بھی اپنے آپ کو ملہم سمجھتے تھے۔تم تو میرے بھتیجے ہوئے۔اور وہ اپنی مستورات کو لے آیا اور ان سے ذکر کیا یہ میرے بھتیجے ہیں۔ان کی خاطر کرنی چاہیئے۔چنانچہ اسی وقت مٹھائی وغیرہ لائی گئی۔میں نے کہا میں یہ نہیں کھا سکتا۔کیونکہ ہمارے حضرت صاحب نے بعض عیسائیوں کی دعوت کو قبول نہیں کیا تھا اور فرمایا تھا کہ تم ہمارے آقا و مولیٰ کی ہتک کرتے ہو تو ہم تمہاری دعوت کیسے قبول کر سکتے ہیں۔اس وجہ سے میں بھی چائے نہیں پی سکتا۔وہ کہتا رہا کہ احمدی ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ بھیجا ہونے کی وجہ سے دعوت کرتے ہیں۔اس کے بعد میں مضمون کا مقابلہ کرائے بغیر وہاں سے چلا آیا۔اور حضور کی خدمت میں یہ واقعہ عرض کیا تو حضور نے فرمایا کہ آپنے بہت اچھا کیا۔اب تمہیں وہاں جا کر مقابلہ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں انہیں خواہش ہو تو خود آ جایا کریں۔۳۳۔جالندھر میں حضرت صاحب تقریباً ایک ماہ قیام پذیر رہے۔بیعت اولی سے تھوڑے عرصہ بعد کا ذکر ہے۔ایک شخص جو ہندو تھا اور بڑا ساہوکار تھا۔وہ جالندھر حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور عرض کی کہ میں حضور کی معہ تمام صحابہ کے دعوت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فوراً دعوت قبول فرمالی۔اس نے کھانے کا انتظام بستی باباخیل میں کیا۔اور بہت پر تکلف کھانے پکوائے۔جالندھر سے پیدل چل کر حضور معہ رفقاء کے گئے۔اس ساہوکار نے اپنے ہاتھ سے سب کے آگے دستر خوان بچھایا اور لوٹا اور سلا پیچی لے کر خود ہاتھ دھلانے لگا۔ہم میں سے کسی نے