اصحاب احمد (جلد 4) — Page 120
۱۲۰ شخص سے زیادہ عقلمند کوئی نہیں جس نے عشق کے ذریعہ خدا اور اس کے رسول کو پالیا۔اور جس نے محبت میں محو ہو کر اپنے آپ کو اُن کے ساتھ وابستہ کر دیا۔اب اسے خدا سے اور خدا کو اس سے کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔کیونکہ عشق کی گرمی ان دونوں کو آپس میں اس طرح ملا دیتی ہے جس طرح ویلڈنگ کیا جاتا اور دو چیزوں کو جوڑ کر آپس میں بالکل پیوست کر دیا جاتا ہے۔مگر وہ جسے محض فلسفیانہ ایمان حاصل ہوتا ہے اس کا خدا سے ایسا ہی جوڑ ہوتا ہے۔جیسے قلعی کا ٹانکا ہوتا ہے کہ ذرا گرمی لگے تو ٹوٹ جاتا ہے۔مگر جب ویلڈنگ ہو جاتا ہے۔تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے جیسے کسی چیز کا جز ہو۔پس اپنے اندر عشق پیدا کرو۔اور وہ راہ اختیار کرو۔جوان لوگوں نے اختیار کی۔پیشتر اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو صحابی باقی ہیں۔وہ بھی ختم ہو جائیں۔بیشک ابتدائی گہراتعلق رکھنے والے لوگوں میں سے منشی ظفر احمد صاحب آخری صحابی تھے مگر ابھی بعض اور پرانے لوگ موجود ہیں۔گواتنے پرانے نہیں جتنے منشی ظفر احمد صاحب تھے چنا نچہ کوٹلہ میں میر عنایت علی صاحب ابھی زندہ ہیں جنہوں نے ساتویں نمبر پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تھی۔مگر پھر بھی یہ جماعت کم ہوتی چلی جارہی ہے اور وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آپ سے گہرا تعلق اور بے تکلفی رکھتے تھے۔ان میں سے تو غالبا منشی ظفر احمد صاحب آخری آدمی تھے۔کپورتھلہ کی جماعت کو ایک خصوصیت یہ بھی حاصل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جماعت کو یہ لکھ کر بھیجا تھا کہ مجھے یقین ہے جس طرح خدا نے اس دنیا میں ہمیں اکٹھا رکھا ہے۔اسی طرح اگلے جہان میں بھی کپورتھلہ کی جماعت کو میرے ساتھ رکھے گا۔مگر اس سے کپورتھلہ کی جماعت کا ہر فرد مراد نہیں بلکہ صرف وہی لوگ مراد ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ساتھ دیا۔جیسے منشی اروڑے خان صاحب تھے یا منشی محمد خاں صاحب تھے یا منشی ظفر احمد